سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 82 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 82

82 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ گزند پہنچا ئیں اس لئے آپ مع اہل بیت کے مشاہجہان آباد کے اندر چلے آئیں میں نے دو محل آپ کیلئے خالی کرا دیئے ہیں۔حضرت خواجہ محمد ناصر اور خواجہ میر درد کی طرف سے یہ جواب دیا گیا کہ: جس خدا نے میدان کربلا میں اہلبیت کی حفاظت کی تھی وہی اب بھی ان سیدانیوں کے ناموس کی حفاظت کرے گا۔یہ بھی انہیں کی ذریت ہیں“۔اس واقعہ سے ان کی اس ایمانی قوت کا پتہ چلتا ہے جو اُن کے قلب میں موجزن تھی اور یہ کہ وہ ایک زندہ خدا پر ایمان رکھتے تھے۔چنانچہ جیسے انہوں نے خدا پر بھروسہ رکھا تھا ویسا ہی ہوا۔نادرشاہ نے دہلی میں قتل عام کیا اور صدہا گھرانے زیروز بر ہو گئے۔مگر خدا تعالیٰ نے فرشتوں کے ہاتھوں سے ایک ایسی مضبوط دیوار بر مدہ کے نالہ کے گرد کھینچوائی کہ کسی نے بھی اُدھر کا رخ نہ کیا اور یہ خاندان معجزانہ طور پر محفوظ رہا اور محفوظ کیوں نہ رہتا جب کہ وہ ابھی اُم المؤمنین جیسی عظیم الشان امانت کو اپنے اندر سنبھالے ہوئے تھا جو اپنے وقت پر مہدی موعود کی طرف منتقل ہونے والی تھی۔الغرض یہ وقت تو نکل گیا لیکن شاہزادی مہر پرور کا مطالبہ روز بروز بڑھنے لگا اور اس نے کہنا شروع کیا کہ آپ اس ویران محلہ کو چھوڑ دیجیئے۔مہر پرور کے زور دینے پر بالآ خر آپ نے دہلی کے اندر رہنا منظور کر لیا مگر ایک شرط پر کہ میں کسی محل میں نہیں رہوں گا بلکہ جیسے ہمارے یہ مکان ہیں ویسے ہی مکان بنوائے جائیں۔شہزادی مہر پرور بیگم نے بخوشی اس شرط کو منظور کر لیا اور کوچہ چیلوں میں ایک قطعہ لے کرنو مکان چھوٹے بڑے بنوائے اور ایک بارہ دری جس کا ایک بڑا صحن تھا اور ایک مسجد تیار کروائی۔آٹھ مکانوں میں آپ کے اہل وعیال اور عزیز واقارب رہنے لگے۔نویں حویلی حجر ہ بن گئی۔بارہ دری میں مختلف قسم کی بزم آرائیاں ہوا کرتی تھیں اور کبھی کبھی مشاعرے بھی ہوا کرتے تھے۔اس واقعہ سے خواجہ میر درد کی قناعت اور درویشی پر بخوبی روشنی پڑتی ہے۔اُن کے دل میں اگر دنیا اور جاہ طلبی کی خواہش ہوتی وہ محلات میں چلے جاتے۔مگر انہوں نے نادری قتل عام کے وقت بھی لال قلعہ کی مضبوط دیواروں کی طرف نہ دیکھا اور مہر پرور بیگم کے مجبور کرنے پر اگر قبول کیا تو یہ کہ جیسے ہمارے فقیرانہ مکان ہیں ویسے بنوا دو۔