سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 81 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 81

81 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ پہلی تصنیف حضرت خواجہ میر درد صاحب نے ۱۵ سال کی عمر میں پہلی تصنیف کی۔یہ ایک چند اوراق کا رسالہ تھا جس کا نام اسرار الصلوۃ تھا۔اس رسالہ کی لطافت اور عمدگی کا یہ عالم تھا کہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی اور مولانا فخر الدین صاحب چشتی نظامی دہلوی نے دیکھ کر بہت پسند فرمایا۔اور فرمایا۔ذلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ۔اس کے بعد انہوں نے بہت سی کتابیں لکھیں جن کے حسب ذیل نام ہیں۔رساله حرمت غنا، وارداتِ درد، علم الکتاب، آه سرد، ناله درد، درد دل، شمع محفل، سوز دل، واقعات درد، دیوانِ درد اُردو، دیوانِ درد فارسی ممکن ہے اور بھی تصانیف ہوں کیونکہ ان کی بہت سی تحریر میں غدر میں تلف ہو گئیں۔اس طرح ۱۵ سال کی عمر میں انہوں نے قلم کو ہاتھ میں لیا اور ۶۸ سال کی عمر تک قلم کے ذریعے خدمت دین کرتے رہے۔خواجہ میر درد کی شہرت خواجہ میر درد کی شہرت بہت جلد دہلی میں پھیل گئی۔چنانچہ خود بادشاہ دہلی بنفس نفیس برمدہ کے نالے پر تشریف لائے اور دونوں باپ بیٹے کی زیارت کی اور ان سے درخواست کی کہ آپ شاہجہان آباد میں چل کر رہئے مگر ان دونوں نے اسے منظور نہ کیا اور اسی اجاڑ جنگل میں جہاں صرف چند خال خال ہستیاں رہا کرتی تھیں رہنا پسند کیا۔شہنشاہ اور نگ زیب کی بہو جس کا نام مہر پر ور بیگم تھا خواجہ میر درد صاحب کی بہت معتقد تھی۔اس نے بار بار خواہش ظاہر کی کہ آپ شہر چلے چلیں۔مگر آپ ایک عرصہ تک اُسے رڈ ہی کرتے رہے اور ۱۸۳۸ ء تک وہیں مقیم رہے۔نادری قتل عام حتی کہ وہ زمانہ بھی آ گیا جب کہ نادر شاہ ایران نے دہلی میں قتل عام کروایا اُس وقت پھر شاہزادی مہر پر ور بیگم نے بڑے ادب سے اپنے ایک خاص ا چھی کو بھیجا اور عرض کی کہ : حضرت یوں تو سب جگہ خدا ہی حافظ و ناصر ہے مگر بر مدے کا نالہ شاہجہان آباد کی شہر پناہ سے باہر ہے اور ایرانی فوجیں بے تمیز ہیں۔ایسا نہ ہو کہ حضرت کے دشمنوں کو کوئی