سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 70 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 70

70 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کے خیالات سے بہت حد تک ملتے جلتے ہیں اور پڑھنے والوں کو ایک بڑی حد تک موازنہ اور مقارنہ کرنے کا موقع مل سکے گا۔یہاں اس قدر درج کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسرار تصوف میں یہ ایک بے نظیر کتاب ہے۔مصنف نے کتاب کے دیباچہ میں لکھا ہے: کہ عرش سے فرش تک جو کچھ کون و مکان میں ہے اس کی امثال اور نمونے اس کتاب میں بہم کئے ہیں۔۱۳ اور یہ بھی لکھا ہے: کہ میری یہ کتاب الہامی کتاب ہے اور میں نے جو کچھ اس میں لکھا ہے وہ مکاشفہ اور معائنہ سے کیا ہے اور خوبی یہ ہے کہ تمام مکاشفے اور الہام قرآن پاک اور حدیث صاحب لولاک کے مطابق اور موافق ہیں اور مرکز شریعت سے بال برابر ادھر اُدھر نہیں ہیں“۔۱۴ اس بیان کے پڑھنے سے مندرجہ ذیل امور کی وضاحت ہوتی ہے۔ا۔حضرت خواجہ محمد ناصر صاحب الہام الہی کا دروازہ بند نہیں سمجھتے تھے۔۲۔نیز ان کے نزدیک کشف اور معائنہ کا دروازہ بھی کھلا تھا۔۔الہامات الہیہ کے جاننے کے لئے معیار قرآن کریم اور حدیث نبوی کو ہی ٹھہرایا گیا تھا جو الہامات قرآن کریم اور احادیث یا مرکز شریعت کے خلاف ہوں وہ کبھی بھی آسمانی کلام نہیں ہو سکتے۔لیکن کیسے تعجب کی بات ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی اصل کو پیش فرمایا تو اس زمانے کے علماء سوء نے اس کی مخالفت شروع کر دی۔وہ الہام کے قطعی منکر ہو گئے۔ان کے نزدیک مکالمہ اور مکاشفہ الہیہ اب کسی کو حاصل ہی نہیں ہو سکتا۔اگر یہ باتیں درست ہوتیں تو اس زمانہ کے بزرگ اور مقتدر علماء جن میں حضرت شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی، حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی اور حضرت مولانا محمد فخر الدین صاحب جیسے بزرگ جو ان کے معاصرین میں سے تھے اور انہی کے محلے میں رہتے تھے ، کیوں خاموش رہتے۔ان بزرگ علماء کی طرف سے یہ سننے کے بعد کہ خواجہ محمد ناصر مدعی الہام و مکاشفہ ہیں اور اپنی کتاب کو الہامی کتاب قرار دیتے ہیں خاموش رہنا اس امر کی دلیل ہے کہ ان کے نزدیک ایسا دعویٰ کرنا شریعت الہیہ کے خلاف نہ تھا۔پس یہ ایک حجت ہے کہ اس زمانے کے علماء اور صوفی اس بات پر ایمان رکھتے تھے کہ اسلام ایک ایسا زندہ مذہب ہے کہ جو خدا دانی اور خدا نمائی کا