سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 71
71 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ذریعہ ہے اور انسان اس مذہب کے ذریعے مکالمہ الہیہ اور مکاشفہ الہیہ سے مشرف ہوسکتا ہے۔لیکن آج کل کے علماء سو ء جادۂ صواب سے منحرف ہو گئے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان دعاوی کی مخالفت کی اور ان کو شریعتِ الہیہ کے خلاف قرار دیا۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی جو کچھ لکھا اور کہا وہ مکالمہ الہیہ اور مکاشفہ الہیہ اور ذاتی تجربہ اور مشاہدہ کے بعد لکھا اور کہا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں : ہم نے اسلام کو خود تجربہ کر کے دیکھا نُور ہے نور اُٹھو دیکھو سنایا ہم نے آج ان ٹوروں کا اک زور ہے اس عاجز میں دل کو ان ٹوروں کا ہر رنگ دلایا ہم نے ہمیں جب سے یہ نور ملا نور پیمبر سے ذات سے حق کی وجود اپنا ملایا ہم نے پر تیرا بیحد ہو سلام اور رحمت مصطفی اس ربط ہے جانِ نور لیا بار خدایا ہم نے سے میری جاں کو مدام دل کو وہ جام لبالب ہے پلایا ہم نے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے کے علماء اس زمانے کی نسبت زیادہ سیاہ دل ہو گئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کو آسمان کی آواز سنائی نہ دی۔نالہ عندلیب بڑی مقبول ہوئی۔شاہان دہلی اور امرائے دہلی اور صوفیائے کرام نے اس کتاب کی نقلیں کروائیں اور سنہری اور لاجوردی جدولوں کے ساتھ ان کے اوراق سجائے گئے اور کتب خانوں میں رکھی گئیں۔ایک دفعہ آپ کو یہ الہام ہوا: آپ کا ایک الہام ”ہم نے تمہارے نام کو پسند اور مقبول فرما لیا اور تمہاری اولاد، اور تمہارے معتقدین