سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 69 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 69

69 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ نے بیعت لے کر اسی وقت ان کو بھی بیعت لینے کی اجازت دے دی۔۱۲ ان کا یہ خاندان حضرت شیخ احمد صاحب سرہندی مجد دالف ثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خاندان تھا۔وہ اور نگ زیب کے زمانہ میں پیدا ہوئے اور ۴ / ذیقعد ۱۱۵۲۰ھ کو محمد شاہ کے زمانہ میں دتی میں فوت ہوئے اور سر ہند میں دفن کئے گئے۔اس طرح سے آپ کی ظاہری تکمیل بھی ہوگئی۔میں لکھ چکا ہوں کہ خواجہ محمد ناصر صاحب شاہجہان آباد کو چھوڑ کر میر عمدہ کے نالہ پر آ رہے تھے جو شاہجہان آباد کے مقابلہ میں ایک اُجاڑ اور قصبہ تھا۔مگر ان کے خاندان کے قدیم مکانات اسی جگہ تھے۔جب ان کی درویشی کا چرچہ اور شہرہ ہونے لگا تو بادشاہ وقت نے برمدہ کے نالہ پر بنفس نفیس پہنچ کر خواجہ محمد ناصر اور خواجہ میر درد کی زیارت کی اور چاہا کہ وہ اس ویران مقام کو چھوڑ دیں۔مگر آپ نے اسے پسند نہ فرمایا۔اس وقت مشائخ و سادات عام طور پر شاہجہان آباد د تی کو ایک چھاؤنی خیال کرتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ شرفاء کی بہو بیٹیوں کو چھاؤنیوں میں نہیں رہنا چاہئے۔لیکن رفتہ رفتہ ہندومسلم شرفاء پرانی دلی سے نکل کر شاہجہان آباد میں آباد ہونے لگے اور پرانی دتی اُجڑتی چلی گئی حتی کہ پانی لانے کے لئے سٹے اور صفائی کے لئے حلال خوری تک نہ ملتی تھی۔بنٹے ، بقال، کنجڑے، قصائی سب پرانی دلی سے منتقل ہو کر شاہجہان آباد میں آگئے مگر یہ گھرانا پھر بھی نہ اُٹھا۔خواجہ محمد ناصر صاحب نے متعدد کتابیں تصنیف کی تھیں۔مگر افسوس کہ وہ سب کتابیں غدر کے ایام میں مفقود ہو گئیں کیونکہ قلمی نسخے تھے۔ایک کتاب نالۂ عند لیب جو ایک ہزار آٹھ سوصفحہ کی بڑی تقطیع پر لکھی تھی جسے نواب شاہجہان بیگم صاحبہ بیگم بھو پال نے طبع کرایا تھا اور اب یہ کتاب پھر تقریباً نایاب ہو گئی ہے۔مگر ہمارے سلسلہ کی لائبریری جو احمد یہ جو بلی ہال میں ہے۔وہاں حضرت مولانا ابوالحمید صاحب آزاد مرحوم وکیل ہائی کورٹ حیدر آباد کی وقف شدہ کتابوں میں ایک نسخہ موجود ہے۔کتاب فارسی زبان میں ہے۔نالہ عندلیب تصوف کی کتاب ہے۔مثنوی مولانا روم کی طرح بہت سی باتیں کہانیوں کے رنگ میں لکھی ہیں۔جگہ جگہ فارسی اشعار سے اسے مزین کیا ہے۔یہ اشعاران کے اپنے ہی ہیں۔انہوں نے کلام کو اور بھی جاذب نظر اور ملیح بنادیا ہے۔مثنوی مولانا روم تو نظم میں ہے۔مگر یہ کتاب نثر میں ہے اور خوب ہے۔اس مختصر کتاب میں ہم ان کی اس کتاب سے بہت کچھ لکھ نہیں سکتے تاہم مختصر طور پر چند باتیں اس کتاب میں میں دوسری جگہ درج کر دوں گا تا کہ اُن کے خیالات اور فرقہ محمدیہ کے حالات پر ایک نظر پڑ سکے۔اس لئے بھی کہ اُن کے خیالات ہمارے سلسلہ