سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 63
63 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ پر ایمان ہی نہیں۔اگر یہ بات نہ ہوتی تو خدا تعالیٰ مومنوں کو آنحضرت پر درود بھیجنے کیلئے کیوں فرماتا۔يأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيماً جب ہم درود شریف کے پاکیزہ تھے حضور پُر نور کی بارگاہ میں بھیجتے ہیں تو ہم کو بھی آپ کی بارگاہ سے ہمارے اخلاص، قلب کی صفائی نور ایمان کے مطابق برکات سے حصہ ملتا ہے۔اس زمانہ میں سب سے زیادہ درود بھیجنے والا ایک ہی انسان تھا جسے خدا تعالیٰ نے ان برکات سے اس قدر مالا مال کیا کہ صلى الله اسے بروز محمد ﷺ بنا دیا۔چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں: اس مقام میں مجھ کو یاد آیا کہ ایک رات اس عاجز نے اس کثرت سے درود شریف پڑھا کہ دل و جان اس سے معطر ہو گیا۔اسی رات خواب میں دیکھا کہ آب زلال کی شکل پرنور کی مشکیں اس عاجز کے مکان میں لئے آتے ہیں اور ایک نے ان میں سے کہا کہ یہ وہی 66 برکات ہیں جو تو نے محمد کی طرف بھیجے تھے۔صلی اللہ علیہ وسلم۔“ ایک مرتبہ الہام ہوا۔جس کے معنی یہ تھے کہ ملاء اعلیٰ کے لوگ خصومت میں ہیں۔یعنی ارادہ الہی احیاء دین کے لئے جوش میں ہے۔لیکن ہنوز ملاء اعلیٰ پر شخص مجھی کی تعیین ظاہر نہیں ہوئی۔اس لئے وہ اختلاف میں ہے۔اس اثناء میں خواب میں دیکھا کہ لوگ ایک مٹی کو تلاش کرتے پھرتے ہیں اور ایک شخص اس عاجز کے سامنے آیا اور اشارہ سے اس نے یہ کہا هذَا رَجُلٌ يُحِبُّ رَسُولَ اللهِ - یعنی یہ وہ آدمی ہے جو رسول اللہ سے محبت رکھتا ہے اور اس قول سے مطلب یہ تھا کہ شرط اعظم اس عہدہ کی محبت رسول ہے سو وہ اس شخص میں متحقق ہے۔‘ ۵ پس آنحضرت ﷺ جو ایک زندہ نبی ہیں کے وجود سے اگر فیض نہ پہنچ سکتا ہوتا تو میں سمجھتا ہوں که در و دشریف کی بھی ضرورت نہ رہتی۔ایک عظیم الشان پیشگوئی اس مکاشفہ میں ایک عظیم الشان پیشگوئی بھی فرمائی گئی کہ : یہ ایک خاص نعمت تھی جو خانوادہ نبوت نے تیرے واسطے محفوظ رکھی تھی۔اس کی