سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 62 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 62

62 سیرت حضرت سید ہ نصرت جہان بیگم صاحبہ۔۔۔حضرت والد صاحب کے زمانہ میں ہی جب کہ ان کا زمانہ وفات بہت نزدیک تھا۔ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ ایک بزرگ معمر پاک سیرت مجھ کو خواب میں دکھائی دیا اور اس نے یہ ذکر کر کے کہ کسی قدر روزے انوار سماوی کی پیشوائی کیلئے رکھنا سنت خاندان نبوت ہے۔اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ میں اس سنت اہل بیت رسالت کو بجالاؤں۔سو میں نے کچھ مدت تک التزام صوم کو مناسب سمجھا۔اور اس قسم کے روزہ کے عجائبات میں سے جو میرے تجربہ میں آئے وہ لطیف مکاشفات ہیں جو اس زمانہ میں میرے پر کھلے اور علاوہ اس کے انوار روحانی تمثیلی طور پر برنگ ستون سبز و سرخ ایسے دلکش اور دلستان طور پر نظر آتے تھے۔جن کا بیان کرنا بالکل طاقت تحریر سے باہر ہے۔وہ نورانی ستون جو سیدھے آسمان کی طرف گئے ہوئے تھے۔جن میں سے بعض چمکدار سفید اور بعض سبز اور بعض سرخ تھے۔ان کو دل سے ایسا تعلق تھا کہ ان کو دیکھ کر دل کو نہایت سرور پہنچتا تھا اور دنیا میں کوئی بھی ایسی لذت نہیں ہوگی۔جیسا کہ ان کو دیکھ کر دل اور روح کو لذت آتی تھی۔میرے خیال میں ہے کہ وہ ستون خدا اور بندہ کی محبت کی ترکیب سے ایک تمثیلی صورت میں ظاہر کئے گئے تھے۔یعنی وہ ایک نور تھا جو دل سے نکلا اور دوسرا وہ نور تھا جو اوپر سے نازل ہوا اور دونوں کے ملنے سے ایک ستون کی صورت پیدا ہوگئی۔یہ روحانی امور ہیں کہ دنیا ان کو نہیں پہچان سکتی۔کیونکہ وہ دنیا کی آنکھوں سے بہت دور ہیں۔لیکن دنیا میں ایسے بھی ہیں جن کو ان امور سے خبر ملتی ہے۔نوٹ : یہ وقعہ اوائل ۱۸۷۶ء کا ہے۔“ اس کشف میں ایک اور چیز جو قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ حضرت خواجہ محمد ناصر صاحب کو اسرار روحانی بغیر کسی ظاہری مُرشد کے سکھا دیئے گئے۔بہت سے ظاہر پرست اس امر کی شدید مخالفت کرتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوسکتا مگر یہ حقیقت ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روحانیت ہمیشہ سے زندہ تھی۔زندہ ہے اور زندہ رہے گی اس لئے وہ لوگ جو آپ کی ذات سے ایک تعلق پیدا کرتے رہے۔یا کرتے ہیں یا کرتے رہیں گے۔ان کو آنحضرت ﷺ کے فیض سے حصہ ملتا رہا ہے۔ملتا ہے اور ملتا رہے گا اس کی ہزار ہا مثالیں موجود ہیں۔میں ایک وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ جو لوگ اس کے منکر ہیں ان کو حضرت رسول اللہ ﷺ کے فیوض