سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 662
662 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت ثابت ہوتی ہے اور ایسا نہ ہونے سے ہتک“۔حضرت نواب صاحب کی یہ تحریر اسلام اور احمدیت کی صداقت میں ایک حجت تھی حجت ہے اور حجت رہے گی۔خدا تعالیٰ نے آپ کو حجتہ اللہ کہا اور آپ نے اپنے عمل سے حجتہ اللہ بن کر دکھایا۔خاکسار عبدالحمید آصف غرض حضرت اُم المؤمنین مدظلہا کو رنج وغم کے متعدد واقعات پیش آئے لیکن آپ نے ہر مرحلہ پر اللہ تعالیٰ کی مقادیر سے کامل مسالمت کا عملی ثبوت دیا اور جیسا کہ شرائط بیعت میں ہے کہ ہر عسر اور لیسر میں قدم آگے بڑھاؤں گا۔ہر واقعہ اور سانحہ آپ کے رضا بالقضا کا مظہر ہوا اور میرا اپنا ایمان تو یہ ہے کہ یہ حوادث اور واقعات ضروری تھے تا کہ زندگی کے ہر شعبہ میں آپ جماعت کی خواتین کے لئے پاک نمونہ قرار پائیں اور خدا تعالیٰ کی وہ وحی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر نازل ہوئی جس میں اہل بیعت کی تطہیر کا وعدہ فرمایا گیا ہے جب ہم اس کے ساتھ کے الہامات کو پڑھتے ہیں تو صاف کھل جاتا ہے کہ اس امتحان کے لئے بڑے بڑے ابتلا مقدر تھے جن میں بڑے بڑے انسان اپنے مقام سے ہل جاتے ہیں۔حضرت ام المؤمنین مدظلہا کی سیرت کے جن پہلوؤں پر میں نے روشنی ڈالی ہے اگر ہمارے گھروں میں اس پر عمل ہو تو فی الحقیقت وہ گھر جنت کا نمونہ بن جاتے ہیں۔حضرت ام المؤمنین کی اولاد اگر چہ میں پہلے بھی ذکر کر آیا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جسمانی اور روحانی طور پر اولاد کثیر عطا فرمائی۔مگر میں یہاں جسمانی اولاد کے متعلق ایک خاص بات بیان کر دینا ضروری سمجھتا ہوں۔جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بطور ایک نکتہ معرفت کے بیان کیا ہے۔اور اس کا اظہار میں اس لئے بھی کرنا چاہتا ہوں کہ بعض دشمنان اہل بیعت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیشتر اور موعود اور صالح اولاد پر نکتہ چینی کرتے ہیں اور بائیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت اور اطاعت کی لاف زنی کرتے ہیں۔