سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 661 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 661

661 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ امنا۔آپ نے فرمایا میں ظلی نبی ہوں ہم نے کہا امنا۔آپ نے مجازی نبی ہوں کہا ہم نے امنا ہی کہا آپ نے کہا ر من نیستم رسول نیاورده ام کتاب ہم نے اس پر بھی امنا کہا۔آپ نے فرمایا میں نبی ہوں ہم نے کہا امنا۔آپ نے ارشاد فرمایا تشریعی نبی نہیں بلکہ متبع نبی ہوں ہم نے کہا امنا۔آپ نے فرمایا میں نے کبھی نبی ہونے سے انکار نہیں کیا بلکہ میرا انکار صرف شرعی نبی ہونے سے تھا یعنی میں شریعت لانے والا نبی نہیں۔بلکہ محمد رسول اللہ کا متبع نبی ہوں۔ہم نے اس پر بھی امــنــا کہا۔آپ نے فرمایا مجھے نبوت کا درجہ اتباع محمد رسول اللہ اور فیضان محمد رسول اللہ سے ملا ہے۔میں غلام ہوں محمد رسول اللہ آقا ہیں ہم نے کہا امنا۔آپ نے فرمایا میرا خیال تھا جیسا کہ عام خیال ہے کہ اب نبی نہیں آسکتا۔مگر مجھے متواتر وحی سے مجبور ہونا پڑا۔اس لئے میں کہتا ہوں کہ میں نبی ہوں۔ہم نے اس پر امنا کہا۔خلاصہ یہ کہ حضرت نے جو کچھ دعویٰ کیا ہم نے امنا کہا۔آپ نے اپنے آپ کو محمد کہا، ابراہیم کہا ، موسیٰ کہا، عیسی مسیح موعود ) کہا، نوح کہا، مہدی کہا اور جری اللہ فی حلل الانبیاء کہا، کرشن کہا۔ہم ان سب دعوؤں پر ایمان لائے۔حضرت دعویٰ فرماتے کہ ناسخ شریعت محمد یہ ہوں تو ہم یہ بھی ماننے کو تیار تھے اس لئے یہ کہنا کہ ہم نے مجدد ہونے پر بیعت کی۔یہ غلط ہے ہم نے حضرت کی بیعت کی کہ جس کو خدا کی بیعت سمجھا۔یدالله فوق کیونکہ اصل میں ہم نے مرزا غلام احمد کی بیعت نہ کی تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کی بیعت کی تھی اور اللہ تعالیٰ کی بیعت کا واسطہ تھا۔چنانچہ بیعت کے الفاظ شاہد ہیں۔آج میں احمد کے ہاتھ پر اپنے گناہوں سے تو بہ کرتا ہوں۔یہ نہیں کہ میں احمد کی بیعت کرتا ہوں۔یہ بیعت دراصل خدا کی بیعت اور خدا سے عہد تھا اور ہے۔ہم تو حضرت کے تمام دعاوی پر ایمان لائے ہیں اور حضرت کے درجہ کو نہ بڑھاتے ہیں اور نہ گھٹاتے ہیں۔ہم ٹکڑوں کو نہیں لے بیٹھتے کیونکہ تومنون ببعض الكتاب و تكفرون ببعض۔پر ہمارا عمل نہیں۔ہم نے مجموعہ جو کچھ بھی حضرت نے فرمایا اس پر امنا کہا اور یہی ہمارا ایمان ہے۔معلوم نہیں آپ کو نبوت پر کیوں جھجک ہے۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع پر نبوت کا سلسلہ جاری رکھنے سے ايديهم