سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 660
660 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کام لے۔اللہ تعالیٰ ان کو ہر قسم کی مصائب سے محفوظ و مامون رکھ کر اپنے فضل کے دروازے اُن کیلئے کھوئے۔۱۲ ایک غیر مبائع نے آپ کے تقویٰ و طہارت کے پیش نظر آپ کی خدمت میں اختلافی مسائل کے متعلق تحریر کیا کہ : ” جناب والا نے حضرت مسیح موعود کو با خدا بزرگ مجد د تسلیم کر کے بیعت کی تھی۔اس وقت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب کے وقت میں جو نئے عقائد بمقابل حضرت مسیح موعود تراشے گئے ہیں اور ان کی جماعت ان کو مانتی ہے دراصل وہ مسیح موعود کی اصل تعلیم سے انحراف کرتی ہے۔پس اس عریضہ کے ذریعہ سے جناب والا کی توجہ حضرت مسیح موعود کے اصل دعوی مجدد کی طرف مبذول کرانے کے لئے معروض ہوں۔آپ چوٹی کے صحابہ ہیں اور آپ کی سچی شہادت تا قیامت رہے گی“۔اس کے جواب میں حضرت نواب صاحب نے تحریر سے غیر مبائعین پر ہر طرح سے حجت پوری کر دی اور آپ کی یہ تحریر قیامت تک آپ کو حجتہ اللہ ثابت کرتی رہے گی۔حضرت نواب صاحب رضی اللہ عنہ نے لکھا: جوا با عرض ہے کہ میرا مسلک سیدھا سادہ ہے۔اس لئے مجھے کسی بات میں جھجھک نہیں ہوتی۔میں نے حضرت مسیح موعود کی جس وقت بیعت کی ہے۔میری حالت ایک صاف زمین کی سی تھی۔جس پر سے پرانے عقائد کا اثر دور ہو چکا تھا۔میں نے حضرت مسیح موعود کو خط و کتابت کر کے دلائل سے مانا اور میں نے آپ کو ایک راستباز انسان تسلیم کر کے مانا اور جب آپ کو میں نے مان لیا تو پھر آپ نے جو بھی دعوی کیا اس کو تسلیم کیا۔آپ کا ازالہ اوہام کے وقت مجددیت کا دعویٰ تھا۔میں نے آپ کو مجد دمانا۔باقی رہی یہ بات کہ میں نے آپ کے مجدد ہونے پر بیعت کی یہ غلط ہے۔میں نے حضرت اقدس کی بیعت آپ کو راستبا زمان کر کی۔آپ نے کہا کہ میں مجدد ہوں۔اس لئے میں نے کہا امنا۔بیعت نہ مجددیت پر کی نہ مسیحیت پر بلکہ یہ کہ احمد کے ہاتھ پر کی تھی اور انہی الفاظ سے آپ تمام عمر بیعت لیتے رہے۔اور آخر تک لیتے رہے ہم نے کیا کیا ؟ یہی کہ آپ کو راستباز مانا۔آپ نے کہا میں مجدد ہوں۔ہم نے کہا امنا۔آپ نے فرمایا کہ میں مسیح موعود ہوں ہم نے کہا