سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 640
640 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ برکات کے نزول کا موجب بنائے۔آمین خاکسار جلال الدین شمس از لندن جماعت کے مندرجہ بالا تا ثرات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت میر محمد الحق صاحب کا کیا مقام اور رتبہ تھا۔اب میں اس دردناک واقعہ کے ذکر کو طویل کرنا نہیں چاہتا ان کے آخری لمحات کا ذکر کر کے ان کے مدارج کی ترقی کی دعا کے ساتھ ختم کر دیتا ہوں۔حضرت میر صاحب کی زندگی کا ہر لمحہ خدمت دین کے لئے وقف تھا اور وہ خدمت سلسلہ ہی کرتے ہوئے اپنے مولیٰ حقیقی سے جا ملے۔میرے اپنے ذوق اور فہم کے موافق تو وہ ایک شہید تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو حیات ابدی عطا فرمائی۔وہ اپنی اس آخری علالت کے وقت صدر انجمن احمدیہ کے اجلاس میں موجود تھے اور وہاں بھی شدید حملہ ہوا ہمت اور استقلال کا کیا کہنا ہے کہ اسی حالت میں اُٹھ کر پیدل روانہ ہوئے مگر تھوڑی دور جا کر قدیم زنانه جلسہ گاہ تک پہنچ کر آگے چلنے کی ہمت نہ رہی۔فرمایا چار پائی منگوائی جائے اور ہمارے بھائی ڈاکٹر میر محمد اسمعیل کو بلا لیا جاوے۔وہ آگئے اور مناسب موقعہ تدابیر کی گئیں مگر پیغام موت آ چکا تھا۔رات کے نو بجے تک ہوش میں رہے پھر بے ہوشی طاری ہو گئی اور اسی حالت میں آپ نے پیک اجل کو لبیک کہا۔انا لله وانا اليه راجعون حضرت میر صاحب نے اپنی اولاد میں تین لڑکے اور چارلڑکیاں چھوڑیں ہیں اور چھ نوا سے اور نواسیاں۔اللهم زدفرد حوالہ جات ا روز نامه الفضل یکم اپریل ۱۹۳۴ ء صفحه ۱-۲ حضرت میر محمد اسحاق کا بزرگان جماعت کی زبان سے ذکر خیر۔روز نامہ الفضل ۲۹ مارچ ۱۹۴۴ء سے لیا گیا ہے۔۵-۴-۳ روز نامه الفضل ۲۱ مارچ ۱۹۴۴ء روزنامه الفضل ۱۱۸ پریل ۱۹۴۴ء