سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 639
639 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ جماعت سے لیکر مولوی فاضل تک ان سے تعلیم پائی۔آپ کا طریقہ تعلیم نہایت اچھا تھا جو مضمون بھی پڑھاتے شاگردوں کے ذہن نشین کرا دیتے۔آپ کے تمام شاگرد آپ سے خوش رہتے۔مجھے اس وقت آپ کے مناقب کا ذکر کرنا مقصود نہیں۔کیونکہ اخبار میں اس کے متعلق اس وقت تک کافی لکھا جا چکا ہو گا۔صرف ایک بات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔وہ یہ کہ اس سال ۲۸ جنوری کو حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے با علام الہی یہ اعلان فرمایا که مصلح موعود جس کے ظہور کی بشارت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دی گئی تھی وہ آپ ہی ہیں۔یہ بات تمام افراد جماعت کے لئے خوشی کا موجب ہوئی۔میں سمجھتا ہوں کہ سیدہ اُم طاہر احمد صاحبہ اور سید محمد اسحق صاحب کی وفات سے پہلے جو جماعت کے لئے موجب رنج و غم ہونے والی تھیں۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز پر یہ انکشاف فرما کر آپ سے ایک رنگ میں ہمدردی کا اظہار کیا۔تا وہ آنے والی مصیبت پر صبر کر کے خدا تعالیٰ کی رحمت کی وارث ہو۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء سے یہی مقدر تھا کہ مصلح موعود کی پیدائش سے پہلے بھی دوعزیز وجود وفات پائیں اور مصلح موعود کے دعوی کرنے کے بعد بھی دو معزز وجود ہم سے جدا ہوں۔چنانچہ آپ کی پیدائش سے پہلے سیدہ عصمت صاحبہ اور صاحبزادہ بشیر اول کی وفات ہوئی اور اب مصلح موعود کا دعوی کرنے کے بعد اُم طاہر سیدہ مریم بیگم صاحبہ اور حضرت میر محمد الحق صاحب کی وفات ہوئی۔ایک عورتوں میں سے اور ایک مردوں میں سے جیسا کہ پیدائش سے پہلے بھی ایک لڑکی کی وفات ہوئی اور بعد میں لڑکے کی۔جس میں اس طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ مصلح موعود کے زمانہ میں اطفال اور خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ اور عورتوں اور مردوں سب کو غیر معمولی طور پر قربانیاں کرنا ہوں گی۔جن کے نتیجہ میں وہ خدا کے فضلوں اور رحمتوں کے وارث ہوں گے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت بشیر اول کی وفات پر فر مایا کہ اس کی وفات سے پہلی قسم انزال رحمت کی پوری ہوئی جو مصائب پر صبر کرنے والوں پر ہوتی ہے اور ان پر جو صبر کرتے ہیں کامیابی کی راہیں کھولی جاتی ہیں۔اسی طرح ہمیں بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہئے کہ وہ ان دونوں حادثوں کو بھی جماعت کی عورتوں اور مردوں کے لئے رحمتوں اور