سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 618 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 618

618 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ مرحوم نے یہ تجویز پیش کی کہ ایک کمیٹی مقرر کر دی جائے۔چنانچہ ایک کمیٹی مقرر ہوئی جس کا میں بھی ممبر تھا۔کمیٹی نے جانچ پڑتال کی اور بعض لوگوں کے متعلق کہا کہ یہ نہ غربا میں داخل ہیں اور نہ مہمان ہیں۔یہ لنگر خانہ سے کیوں کھانا کھاتے ہیں۔مرحوم نے فرمایا آپ لوگ جو فیصلہ کریں گے اس کی میں تعمیل کروں گا مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ میں اپنے آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لنگر سے کسی کا کھانا بند کر دوں۔(۷) جناب مولوی ابوالعطاء صاحب جالندھری حضرت سیدہ ام طاہر احمد کے دفن کے موقعہ پر بہشتی مقبرہ میں ہی حضرت میر صاحب نے مجھے فرمایا کہ آج رات کے جلسہ میں سیدہ اُمم طاہر احمد کی وفات کے متعلق بھی تقریر کریں اور جماعت کے جذبات کا اظہار کریں۔چنانچہ 9 مارچ کی شب کو حضرت میر صاحب کی صدارت میں یہ تقریر ہوئی۔مگر کسے معلوم تھا کہ یہ مبارک انسان بھی بہت جلد ہم سے جدا ہونے والا ہے اور ہم دو ہفتے کے اندراندراس کی وفات پر افسردہ ہوں گے۔آج کا یہ جلسہ کوئی رسم اور بدعت نہیں اور نہ ہما راحق ہے کہ شریعت میں کوئی اضافہ کر سکیں۔تعمد اور ارادہ سے ایک رسم قائم کرنا علیحدہ امر ہے اور ایک بزرگ کے بعض محاسن کا جذبات کے طبعی اثر کے ماتحت اس لئے ذکر کرنا کہ لوگ ان محاسن کی اتباع کریں بالکل علیحدہ بات ہے۔انـــمــا الاعـمـال بالنیات۔ہم اس سے پناہ مانگتے ہیں کہ ہمارے ذریعہ سے کوئی بدعت قائم ہو۔حضرت میر محمد الحق صاحب رضی اللہ عنہ میرے استاد ہیں۔ان کی شفقت و مہربانی سے تمام شاگرد واقف ہیں۔ان کے احسانات بھلائے نہیں جا سکتے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ اگر کوئی شخص نیک علم سکھائے تو جب تک لوگ اس پر عمل پیرار ہیں اس سکھانے والے کو اجر ملتا ہے۔اس لحاظ سے حضرت میر صاحب کا صدقہ جاریہ ہے۔علاوہ مفوضہ تعلیمی شغل حضرت میر صاحب مسجد اقصیٰ میں بخاری شریف کا درس دیتے تھے۔آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس محبت اور والہانہ عقیدت سے ذکر فرماتے کہ قلوب میں رقت پیدا ہو جاتی اور اس مجلس میں سننے والے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت سے سرشار ہو کر جاتے۔حضرت میر صاحب کی زندگی کے متعلق بہت کچھ کہا اور لکھا جا سکتا ہے۔میرے نزدیک ان کی زندگی کو دولفظوں میں یوں ادا کیا جا سکتا ہے کہ وہ باطل و غلط عقائد کے خلاف جنگی تلوار تھے۔اور خدا اور