سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 617 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 617

617 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ مہمان خانہ کا بھی کام ہے وہیں کچھ آرام کرلوں گا۔آپ نے میرا مشورہ مانانہیں میرا خیال تھا کہ آپ صدر انجمن کے اجلاس میں بوجہ بیمار ہونے کے تشریف نہیں لاسکیں گے۔مگر جب مجلس معتمدین کے اجلاس میں گیا تو دیکھا کہ میر صاحب موصوف وہاں پہلے سے موجود ہیں۔وہ مجلس میں محفل کی رونق تھے جو آج بے رونق ہے۔ان کے بچپن کا زمانہ بھی مجھے یاد ہے جب وہ پکے دبلے سے تھے اور نچلا بیٹھنا نہیں جانتے تھے۔پھر وہ وقت بھی دیکھا کہ جب خلیفہ اول رضی اللہ عنہ سے تعلیم حاصل کرتے تھے۔خلیفہ اول کو میں نے یہ فرماتے سنا۔میر صاحب جب آتے ہیں تو میں محتاط ہو جاتا ہوں۔یعنی سلسلہ اعتراضات جب ان کی طرف سے شروع ہو جاتا تو آپ کو مسکت جواب دینے میں مشکل سی محسوس ہوتی۔وزنی اور معقول اعتراض ہوتے۔قوت منطقی ان کی غیر معمولی تھی۔یہی شان انکی مجلس میں ہمارے ساتھ رہی۔ہم یہاں تعزیت کیلئے جمع ہوئے ہیں۔مگر ہماری تعزیت جیسا کہ حضرت خلیفہ مسیح ایدہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے اسی طرح ہو سکتی ہے کہ میر صاحب مرحوم جیسا الحق ہم میں پیدا ہو۔ہمارا خدا ہر بات پر قادر ہے۔اس لئے اس سے نعم البدل مانگیں۔اس کے بغیر ہماری تعزیت نہیں۔صدر انجمن کو ان کی وفات سے سخت نقصان پہنچا ہے۔(۶) جناب مولوی عبد الرحیم صاحب درد جناب در دصاحب نے فرمایا کہ : مجھے کئی حیثیتوں میں مرحوم کے ساتھ مل کر کام کرنے کا موقعہ ملا ہے۔مجلس میں کئی بار اختلاف رائے ہوا۔مگر میں نے مرحوم کے دل پر کبھی اس کا اثر محسوس نہیں کیا۔پھر ایک زمانہ میں میں ناظر تعلیم وتربیت تھا اور مرحوم ہیڈ ماسٹر تھے اور اس کے باوجود مجلس کے ممبر بھی تھے۔میں نے ہمیشہ دیکھا کہ دیگر معاملات میں تو مرحوم میری رائے کے ساتھ بعض اوقات اختلاف کر لیتے مگر محکمانہ سوال ہوتا تو ناظر کی رائے سے ہرگز اختلاف نہ کرتے۔تقویٰ اللہ اور نظام کی شدید پابندی کے جذبہ کے بغیر ایسا ممکن نہیں اور یہ مثال ہمارے لئے قابلِ تقلید ہے۔اختلاف رائے کے موقعہ پر بھی جو فیصلہ ہو جا تا مرحوم دیانت داری سے اس کی پابندی کرتے۔مرحوم ناظر ضیافت تھے۔انجمن کی طرف سے تقاضہ ہوتا تھا کہ خرچ کم کیا جائے۔