سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 552
552 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اسی اجتہادی غلطی کی بناء پر حضرت صاحب نے اس وقت ایسا لکھا۔بہر حال مصلح موعود کے ظہور کی علامات میں اس امر کو واضح کیا کہ ضرور ہے کہ خدا اس لڑکے کی والدہ کو زندہ رکھے جب تک یہ پیشگوئی پوری ہو۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصلح موعود کے ظہور کے وقت حضور کا وصال ہو چکا ہوگا۔جو مصلح چنانچہ ایسا ہی ہوا اور باوجود یکہ جماعت کے علماء وصلحا عوام وخواص ان آثار اور کاموں سے جو موعود کے تھے یہ یقین کرتے تھے کہ حضور مصلح موعود ہیں مگر آپ نے اس وقت تک اس کا اعلان نہ فرمایا جب تک خدا تعالیٰ نے آپ پر ایک رویا صالحہ کے ذریعہ کامل انکشاف نہ کر دیا اور تب آپ نے خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر اس کا اعلان ہوشیار پور لودہانہ، لاہور ، دہلی میں کیا۔ہوشیار پور کو اس لئے اہمیت اور خصوصیت تھی کہ یہ پیشگوئی ہوشیار پوری سے کی گئی تھی اس موقعہ پر (۲۰ فروری ۱۹۴۸ء) کو حضرت امیر المومنین خلیفہ امسیح مصلح موعود نے فرمایا: حضور نے فرمایا آج سے پورے اٹھاون سال پہلے جس کو آج انسٹھواں سال شروع ہو رہا ہے۔۲۰ فروری کے دن ۱۸۸۶ء میں اس شہر ہوشیار پور میں اس مکان میں جو کہ میری انگلی کے سامنے ہے ایک ایسے مکان میں جو کہ اس وقت شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور کا طویلہ کہلاتا تھا۔جس کے معنی یہ ہیں کہ وہاں رہائش کا اصلی مقام نہیں تھا بلکہ ایک رئیس کے زائد مکانوں میں وہ ایک مکان تھا۔جس میں شاید اتفاقی طور پر کوئی ٹھہر جاتا ہو یا اسٹور بنا رکھا ہو یا حسب ضرورت جانور باندھے جاتے ہوں۔قادیان کا ایک گمنام شخص جس کو خود قادیان کے لوگ بھی پوری طرح نہیں جانتے تھے لوگوں کی اس مخالفت کو دیکھ کر جو اسلام اور بانی اسلام سے وہ رکھتے تھے اپنے خدا کے حضور علیحدگی میں عبادت کرنے اور اس کی نصرت اور مددطلب کرنے کیلئے آیا اور چالیس دن علیحدگی میں اس نے خدا تعالیٰ سے تضرع کے ساتھ دعائیں کیں۔ان دعاؤں کے نتیجہ میں خدا نے اس کو ایک نشان دیا۔وہ نشان یہ تھا کہ میں تم کو نہ صرف یہ کہ جو تمہارے ساتھ میرے وعدے ہیں ان کو پورا کروں گا بلکہ ان وعدوں کو زیادہ شان اور زیادہ عظمت کے ساتھ پورا کرنے کیلئے میں تمہیں ایک خاص بیٹا دوں گا وہ اسلام کو دنیا کے کناروں تک پہنچائے گا۔کلام الہی کے معارف لوگوں کو سمجھائے گا۔رحمت اور فضل کا نشان ہوگا اور دینی و دنیوی علوم جو اسلام کی اشاعت کے لئے ضروری ہیں اسے عطا کئے جائیں گے۔اللہ تعالیٰ اسے لمبی عمر دے گا یہاں تک کہ وہ دنیا کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قو میں اس سے برکت حاصل کریں گی۔