سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 551
551 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ( ب ) ” وہ خدا کا کلمہ ہوگا۔جو ابتداء سے مقرر تھا اور اس زمانہ میں پورا ہو جائے گا۔اور ضرور ہے کہ خدا اس لڑکے کی والدہ کو زندہ رکھے۔جب تک یہ پیشگوئی پوری ہو۔اور گزشتہ الہام ” اے ورڈ اینڈ ٹو گرلز “۔اسی پیشگوئی کو بیان کرتا ہے۔جس کے معنی ہیں۔ایک کلمہ اور دولڑ کیاں۔کیونکہ میاں منظور محمد کی دولڑ کیاں ہیں۔اور جب کلمتہ اللہ پیدا ہوگا۔تب یہ بات پوری ہو جائے گی۔ایک کلمہ اور دولڑکیاں۔19 اگر چه حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جیسا کہ حاشیہ بالا سے ظاہر ہے یہ صاف کر دیا تھا کہ منظور محمد سے کس کی طرف اشارہ ہے معلوم نہیں لیکن یہ واقعہ ہے کہ حضرت کا رحجان یہ ضرور تھا کہ اس سے صاحبزادہ منظور محمد ہی شاید مراد ہوں۔مگر یہ حقیقت ہے اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتا ہوں کہ اسی دن جب یہ الہامات میں نے سنے ظہر کی نماز کے بعد خاکسار شیخ غلام احمد مرحوم کی دوکان میں آ کر بیٹھا ہوا تھا اور میں نے ان سے کہا کہ حضرت اقدس کو اجتہادی غلطی لگ رہی ہے۔یہاں پیر منظور محمد مراد نہیں خود حضرت ہی مراد ہیں اور آپ کا ہی نام منظور محمد ہے اور محمدی بیگم آپ کی ہی زوجہ محترمہ ہیں۔یہ ذکر ہورہا تھا کہ حضرت نانا جان میر ناصر نواب رضی اللہ عنہ آئے اور آ کر فرمایا اوشیخا ! کیا بحث کرتے ہو۔شیخ صاحب مرحوم نے فرمایا کہ شیخ صاحب کا یہ خیال ہے کہ حضرت اقدس کو اجتہادی غلطی لگ رہی ہے۔حضرت میر صاحب نے مجھے مناسب ہدایت کی مگر میں سنتا رہا۔اس کے کچھ عرصہ بعد جب پیر منظور محمد صاحب کی اہلیہ محترمہ کا انتقال ہو گیا تب میں نے ایک روز اس سلسلہ میں اسی مقام پر کہا کہ دیکھو خدا تعالیٰ نے اپنے فعل سے اس اجتہاد کی غلطی واضح کر دی اب پیر منظور محمد صاحب کے اولاد کا موقعہ نہ رہا۔حضرت میر صاحب نے اس مرتبہ فرمایا کہ یہ پیشگوئی میر محمد الحق صاحب کے گھر میں لڑکا پیدا ہونے سے پوری ہوگی میں نے کہا یہ ہرگز نہ ہوگا۔اس پر حضرت میر صاحب کو طیش آیا اور مجھے فرمایا کہ تو نہیں چاہتا کہ میرے لڑکے کے گھر میں یہ موعود پیدا ہو۔میں نے جواب دیا یہ موعود آپ کی اولاد ہی میں ہو گا۔فرق اتنا ہے کہ آپ کہتے ہیں میرے لڑکے کے گھر میں ہوگا اور میں کہتا ہوں آپ کی لڑکی کے گھر میں۔میں تو نہیں چاہتا کہ آپ کے لڑکے کے گھر میں نہ ہو مگر کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی لڑکی کے گھر میں نہ ہو۔اس پر حضرت مرحوم خاموش ہو گئے اور میں اور کثیر التعداد لوگ یہی سمجھتے تھے کہ وہ آپ ہی کی اولاد میں سے ہوگا اور یہی وہ اولوالعزم بشیر الدین محمود احمد ہے۔