سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 42
عہد بادشاه هفت کشور 42 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ سلیمان فر شاه داور نذر شاہ بھیک آن قطب آفاق شد این مسجد به زینت در جہاں طاق خدا ربانی است لیک از روئے احسان بنام روشن الدوله ظفر خان به تاریخش ز ہجرت تا شمار است ہزار و یکصد و سی و چهار است (oller) ایک اور سنہری مسجد پہلی سنہری مسجد سے ۲۳ برس بعد رفاہِ عام کے لئے فیض بازار میں عین سڑک پر دوسری سنہری مسجد تعمیر کروائی۔یہ مسجد اب پوشیدہ ہو گئی ہے اور غلط العام کی وجہ سے اب قاضیوں کی مسجد کہلاتی ہے۔اس مسجد کی تاریخ یہ ہے : روشن الدوله ظفر خان صاحب جود و کرم کرد تعمیر طلائی مسجد عرش اشتباه مسجدے کاندر فضائے قدریں آسمان کرد از خط شعاعی مهر جاروبی پگاه حوض صاف اونشان از چشمه کوثر دهد هر که از آلیش وضو ساز و شود پاک از گناه سال تاریخش رسائی یافت از الهام غیب مسجد چوں بیت اقصیٰ مبط نور الہ (۱۱۵۷ھ) لاہور کی سنہر ی مسجد جہاں تک ہم کو معلوم ہو سکا ہے کہ لاہور ڈبی بازار کی مشہور سُنہری مسجد بھی روشن الدولہ نواب ظفر اللہ خان کی بنوائی ہوئی ہے۔اس سے اس شوق کا پتہ چلتا ہے جو ان کے قلب میں موجزن تھا۔وہ یہ چاہتے تھے کہ بکثرت مسجدیں بنوائیں اور مسجدمیں بھی ایسی ہوں جو اپنی خوبصورتی میں یکتا ہوں۔جوشخص مساجد کیلئے اس قدر شوق اور محبت رکھتا ہو اس کے دل میں نماز کی پابندی اور باقاعدگی کا کس قدر شوق ہوگا یہ ظاہر ہے اس سے بآسانی معلوم ہوسکتا ہے کہ یہ بھی وہ لوگ تھے جنہوں نے کبھی بھی دنیا کو دین پر مقدم نہ