سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 43 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 43

43 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کیا تھا۔آپ نے چورانوے سال پانچ ماہ کی عمر پائی اور دسویں ذالحجہ ۱۲۶۷ھ طلوع آفتاب کے وقت تکبیر تحریمہ پڑھتے ہوئے مرض سرطان سے وفات پائی۔انا لله و انا اليه راجعون - آپ کا مزار قدم شریف دہلی کے احاطہ میں ہے۔سیر المتاخرین کے مصنف نے بوجہ متعصب شیعہ ہونے کے بہت کچھ ان کے خلاف لکھا ہے مگر اس کی کچھ حقیقت نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان سے ایک مناسبت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کی بہت سی باتیں حضرت اُم المؤمنین کے خاندان سے ملتی ہیں جیسے کہ میں پہلے ایک مثال کا ذکر کر آیا ہوں۔حضرت مسیح موعود کے خاندان کی درویشی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بزرگ اگر چہ شاہی خاندان کے لوگ تھے۔ہندوستان میں ورود سے قبل بھی وہ صاحب حشمت تھے مگر اس کے باوجود انہوں نے درویشی کو اپنا شعار رکھا۔حضرت مرزا ہادی بیگ مورث اعلیٰ نے سلطنت کے جھمیلوں سے دور پنجاب کے ایک جنگل میں ایک بستی بسائی۔اس کا نام اسلام پور رکھا۔اس میں حفاظ اور علماء کا ایک جمگھٹا رہتا تھا۔قال اللہ اور قال الرسول کے ہر وقت چرچے رہتے تھے۔ی تھی ان کی امیری میں درویشی اور یہی حال حضرت ام المؤمنین کے بزرگوں کا رہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا کے مناصب سے حصہ وافر دیا تو اس وقت بھی یاد الہی ان کے قلب سے محو نہ ہوئی۔نواب ظفر اللہ خان روشن الدوله رستم جنگ ہفت ہزاری شاہنشاہ ہند فرخ سیر تیسری مناسبت کے زمانہ میں ہوئے ہیں۔یہ حضرت اُم المؤمنین کے خاندان کے مورثان اعلیٰ میں سے ایک تھے اور اسی زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مورثان اعلیٰ میں عضد الدولہ میرزا فیض محمد خان صاحب ہفت ہزاری تھے۔نواب ظفر اللہ خان نے بادشاہ کی مدد کے لئے تلوار اُٹھائی۔مگر عضد الدولہ میرزا فیض محمد خان نے دو کام کئے۔ایک تو یہ کہ اس خانہ جنگی سے فائدہ اُٹھا کر اپنی ایک خود مختار سلطنت کی بنیادرکھنے کی کوشش نہیں کی باوجود اس کے کہ ۸۴ گاؤں پر آپ کی حکومت تھی۔علاقہ پر آپ کا اثر تھا آپ کے پاس با قاعدہ فوج تھی اور مال و دولت سے حصہ وافر تھا۔الغرض