سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 41 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 41

41 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ رنگیلا اگر چہ ایک رنگین مزاج بادشاہ تھا مگر اس نے بوڑھے جرنیل کو خوب سمجھا۔اُسے ان کی وفاداری پر پورا بھروسہ تھا۔اس لئے جو یہ کہتے وہی بادشاہ کرتے۔اس سے بہت سے ارکانِ سلطنت ان سے جلنے لگے اور حسد کرنے لگے۔بادشاہ فرخ سیر نے ان کے سابقہ اعزازات میں یار وفادار کا اضافہ فرمایا۔آج یار وفادار وہ خطاب ہے جو برٹش سر کار میں صرف اعلیٰ حضرت حضور نظام دکن کو حاصل ہے۔تو گویا میں کہہ سکتا ہوں کہ نواب ظفر اللہ خان کو آج کے لحاظ سے ہرا یگز الٹڈ ہائی نس کا خطاب تھا اور اس طرح نواب ظفر اللہ خان نے اس وقت کا ہی نہیں بلکہ آج کے لحاظ سے بھی بڑے سے بڑ ا لقب اور بڑے سے بڑا منصب حاصل کیا۔نواب ظفر اللہ خان کے متعلق مؤرخین نے لکھا ہے کہ اُن کی سواری بڑی شان سے نکلتی تھی۔ان کے آگے سوار اشرفیاں بانٹتے چلا کرتے تھے۔اُن کے سر پر کئی مرتع جواہر طرے ہوا کرتے تھے۔اُن کی سخاوت کی بڑی دھوم تھی۔کے ان حالات سے اندازہ لگ سکتا ہے کہ نواب ظفر اللہ خان اپنے زمانہ کے ایسے امیر کبیر تھے جو بادشاہ کے بعد امور سلطنت کے مدارالمہام تھے اور جن کے گھر میں سونا چاندی اور زروجواہر کا کوئی شمار نہ تھا۔سُنہری مسجد نواب ظفر اللہ خان کو اپنے مرشد سے بڑی عقیدت تھی اور وہ اپنی ساری ترقیوں کو ان کی دعا اور برکت کا نتیجہ یقین کرتے تھے۔اس لئے انہوں نے ۱۱۳۴ھ میں حضرت میران بھیک کی وفات پر اُن کی یاد میں دہلی میں ایک مسجد چاندنی چوک میں کو توالی کے قریب بنوائی اور اسے سر سے پاؤں تک سونے میں غوطہ دے دیا کہتے ہیں کہ جب بادشاہ کی سواری چاندنی چوک سے گذرتی تو اس مسجد کو دیکھ کر بادشاہ خوش ہوتے تھے۔اس مسجد کی تاریخی حیثیت نادرشاه ایران نے جب دہلی میں قتل عام کروایا تو وہ اس مسجد میں تلوار کھینچ کر آ بیٹھا تھا اور جب تک تلوار بے نیام کئے بیٹھا ر ہا قتل عام ہوتا رہا۔اس واقعہ کی تفصیل کسی دوسری جگہ آئے گی۔مگر یہاں اس قدر ذکر کرنا ضروری تھا کہ نادری قتل عام چونکہ ایک تاریخی واقعہ تھا۔اس لئے تمام مؤرخین نے اس مسجد کا ذکر کیا ہے اور اب تک دنیا بھر سے آنے والے سیاح اس مسجد کو دیکھنے آتے ہیں۔اس خوبصورت سنہری مسجد کی پیشانی پر یہ تاریخ کندہ ہے۔