سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 534
534 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ جوش پاتا ہوں۔حضرت ام المؤمنین ہوں تو حضرت خلیفہ المسیح الاواع کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں بہت خیال رکھتی تھیں اور آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا تھا کہ آپ سے محبت رکھتے تھے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد حضرت خلیفہ اول کے مقامِ خلافت کا ادب زیر نظر رہتا۔خود حضرت خلیفہ اول حضرت اُم المؤمنین کا ادب اسی طرح کرتے جیسے حضرت اقدس کی زندگی میں۔مگر حضرت ام المؤمنین اسی مقام کے لحاظ سے جو خلافت کی وجہ سے حاصل تھا حضرت خلیفہ اول کے احکام کی تعمیل اپنا فرض سمجھتی رہیں اور اب باوجود یکہ حضرت امیر المومنین آپ کے اپنے بیٹے ہیں اور آپ کا مقام اس حیثیت سے بہت ہی ادب کا مقام ہے لیکن مقام خلافت کا احترام حضرت اُم المؤمنین کے ہمیشہ زیر نظر رہتا ہے اور اس حیثیت سے حضرت امیر المومنین کے احکام جو سلسلہ کی تعلیم و تربیت اور نظام کے استحکام کے متعلق ہوتے ہیں ان پر عمل کرنا آپ ضروری سمجھتی ہیں۔غرض حضرت خلیفہ اسی الاول نے خود ایک واقعہ کا انکشاف فرمایا اور حضرت عرفانی کبیر نے اسے شائع کر دیا تھا جس کی میں اب تجدید کر رہا ہوں۔قیام خلافت کے متعلق حضرت ام المؤمنین کا ارشاد منکرین خلافت نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اہل بیت کے خلاف مسئلہ خلافت کے متعلق نہایت ناسزا پروپگنڈا کیا ہے اگر چہ اس خصوص میں ان کو کامل نا کا می ہو چکی ہے مگر اب بھی وہ یہی کہتے ہیں کہ خلافت ثانیہ کے لئے سازش کی گئی تھی۔حقیقت یہ ہے کہ خلافت ثانیہ کے متعلق کسی انسان کا منصوبہ اور سازش تو نہ تھی البتہ خدائے قدیر کا یہی فیصلہ کیا ہوا تھا۔مگر میں خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے یہ شہادت دیتا ہوں کہ میں نے حضرت عرفانی کبیر ( قبلہ والد صاحب) سے بہ حلف دریافت کیا کہ کیا اس کی کچھ حقیقت ہے؟ انہوں نے حلفاً بیان کیا کہ یہ افتراء اور اتہام ہے جو ہم پر کیا گیا۔حضرت اقدس کے خاندان میں قطعاً کسی کو یہ وہم نہ تھا اور اگر اس قسم کی خواہش ہوتی تو خلافت اولی کے وقت یہ مقصد بآسانی پورا ہوسکتا تھا اس لئے کہ حضرت حکیم الامت رضی اللہ عنہ تو سیدہ امتہ الحفیظ سلمها اللہ تعالیٰ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کو تیار تھے اگر خاندان کا ذرا بھی اشارہ ہوتا تو حضرت حکیم الامت رضی اللہ عنہ سب سے پہلے تائید کرتے مگر یہ اتہام ہے اہلِ بیت پر اور خدام مسیح موعود پر اور الحمد للہ اس اتہام میں