سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 533 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 533

533 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ سے اس رضائی کی مرمت اپنے ہاتھ سے کی اور اسے درست کر کے واپس بھیج دیا۔جب رضائی مرمت ہو کر آ گئی اس وقت حضرت خلیفہ اول نے اس طالب علم کو جس کی رضا ئی تھی فرمایا کہ حضرت ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ رضائی میں چیلر بہت تھیں۔اس موسم میں چیلر قابل تعجب ہے اپنے کپڑوں کو صاف رکھا کرو۔یہ ہدایت اور نصیحت تو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے کی۔طالب علم اس قسم کی غفلت کیا کرتے ہیں۔مگر اس واقعہ میں حضرت اُم المؤمنین کی سیرت پر نظر کرو۔کہ ایک نہایت گندی اور دریدہ رضائی کی مرمت آپ خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پہلے جانشین کے حکم کی تعمیل میں کر رہی ہیں۔رضائے مولیٰ کے لئے یہ طلب اور تڑپ جس دل میں ہو اس کی عظمت کا اندازہ کون کر سکتا ہے۔یہی تو وہ دل ہیں جو خدا تعالیٰ کا عرش ہوتے ہیں۔حضرت اُم المؤمنین کے اس فعل سے منصب خلافت کی عظمت کا بھی اندازہ بآسانی ہو جاتا ہے اور خلیفہ کی اطاعت کیسی ضروری ہے اس عمل کی روشنی میں سیکھو۔خلافت کے منکرین غور کریں جو نہایت بددیانتی سے یہ الزام لگاتے ہیں کہ حضرت اُم المؤمنین حضرت خلیفہ اول کی خلافت سے نعوذ باللہ ناراض تھیں۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے تو ایک مرتبہ فرمایا تھا: مرزا صاحب کی اولا د دل سے میری فدائی ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ جتنی فرمانبرداری میرا پیارا محمود۔بشیر۔شریف۔نواب ناصر۔نواب محمد علی خاں کرتا ہے تم میں ایک بھی نظر نہیں آتا۔میں کسی لحاظ سے نہیں کہتا بلکہ میں امر واقعہ کا اعلان کرتا ہوں کہ ان کو خدا کی رضا کیلئے محبت ہے۔بیوی صاحبہ کے منہ سے بیسیوں مرتبہ میں نے سنا ہے کہ میں تو آپ کی لونڈی ہوں“ سے غرض آپ کو یہ تڑپ رہتی ہے کہ میں کوئی ایسا کام کروں جو حضرت رب العزت کی بارگاہ میں پسندیدہ ہو اور اسی مقصد کیلئے آپ کے تمام اعمال ہیں اور خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی وحی میں آپ کو بشارت دے دی کہ خدا خوش ہو گیا۔واللہ الحمد اسی سلسلہ میں میں ایک اور واقعہ پیش کرنے سے رُک نہیں سکتا اور اپنے قلب میں ایک غیر معمولی