سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 535 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 535

535 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ مجھے بھی اہل بیت کی معیت کا شرف حاصل ہے اور یہ کہ کر ان پر رقت طاری ہوگئی۔انہوں نے خلافت اولی کے متعلق مشورہ کا بھی ذکر کیا کہ یہ جب مشورہ ہوا تو میں شریک تھا اور خواجہ صاحب اور دوسرے معتمدین نے حضرت حکیم الامت کا نام تجویز کر کے حضرت سے ذکر کیا آپ نے فرمایا کہ پہلے دعا کرو اور پھر میر صاحب حضرت صاحبزادہ صاحب اور حضرت اُم المؤمنین اور نواب محمد علی خان صاحب سے جا کر مشورہ کرو۔چنانچہ بالا تفاق حضرت خلیفہ اول منتخب ہو گئے۔اس کتاب کے اس حصہ کی طباعت کے وقت حضرت نواب محمد علی خان صاحب رضی اللہ عنہ کے انتقال کی خبر آئی۔انا للہ وانا اليه راجعون۔اور ان کی ڈائری حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے انتقال کے متعلق شائع ہوئی ہے چونکہ اس میں مسئلہ خلافت کا ذکر اسی وقت کا لکھا ہوا موجود ہے اور یہ خزینہ عرفانی کبیر کے حصہ میں آیا کہ عزیز مکرم محمود احمد عرفانی کے مسودہ پر یہ حاشیہ اضافہ کرے۔اسی ڈائری سے حضرت ام المؤمنین کی سیرت اور بے نفسی اور للہیت کا پتہ لگتا ہے۔اس لئے میں اسے تمام و کمال درج کرتا ہوں : حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کا ذکر حضرت نواب محمد علی خان صاحب رضی اللہ عنہ کے قلم سے نقل مطابق اصل ڈائری خود نوشته حضرت نواب محمد علی خاں صاحب بر موقعہ وفات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام۔۲۶ مئی ۱۹۰۸ء منگل آج حضرت اقدس مسیح موعود مہدی معہود مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان کا انتقال ہو گیا۔حضور علیہ السلام جس روز سے لاہور آئے تھے۔کم و بیش مرض اسہال میں مبتلا ہو گئے۔مگر کل کھانے کے بعد با وجود ا سہالوں کے پیغام صلح کا مضمون لکھتے رہے اور معمولی اسہال سمجھے گئے۔شام کو سیر کو گئے۔رات کو کھانا کھایا۔مگر چند نوالے ہی کھائے تھے کہ اسہال کی حاجت ہوئی۔آپ نے کھانا چھوڑ دیا اور جائے ضرور گئے۔وہاں اسہال آیا۔اس کے بعد پھر ایک دو اسہال ہوئے۔پھر بارہ بجے کے قریب اسہال ہوا اور ایک قے بھی ہوئی جس سے طبیعت بہت گھٹ گئی اور برداطراف ہو گیا۔نبض ساقط ہوگئی بالکل مایوسی ہو گئی مگر ادویات کے استعمال اور مالش سے پھر طبیعت گرم ہو گئی۔نبض عود کر آئی۔تین بجے میرے بلانے کونور محمد بھیجا گیا۔اتفاق سے راستہ میں گھوڑا گر گیا۔اس لئے ٹم ٹم دیر میں پہنچی۔اس وقت نماز کا وقت ہو گیا تھا۔پہرہ والے کے آواز دینے پر میں اٹھا۔نماز پڑھ کر روانہ ہوا۔کوئی پانچ بجے میں حضرت اقدس کی خدمت میں پہنچا۔اس وقت حضرت اُم المؤمنین برقعہ پہنے چار پائی کی باہنی پر سر رکھے زمین پر بیٹھی تھیں اور ڈاکٹر محمد حسین شاہ ، ڈاکٹر یعقوب بیگ موجود تھے۔خواجہ کمال الدین ، حضرت مولا نا مولوی نورالدین ، میاں محمود،میاں بشیرا اور شیخ عبدالرحمن قادیانی وغیرہ وغیرہ موجود تھے۔ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب نے مجھے کہا کہ شکر ہے نہایت نازک حالت سے طبیعت ٹھیک ہوئی ہے۔حضرت اقدس کی یہ حالت تھی کہ بدن گرم تھا اور کرب تھا مگر حواس ٹھیک تھے۔آہستہ آہستہ