سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 40 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 40

40 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ نواب ظفر اللہ خان بخشی سوم شاہنشاہ فرخ سیر نے بھی آپ کی خدمات سابقہ اور اس وفاداری کو جو اب ان سے ظاہر ہوئی سامنے رکھتے ہوئے از راہ قدردانی فورا نواب ظفر اللہ خان کو اپنی افواج کا بخشی سوم کر دیا۔یعنی کمانڈر انچیف درجہ سوم۔منصب پنج ہزاری بخشی سوم کے لئے جن لوازمات اور اعزازات کی ضرورت تھی اُن کو بھی نظر انداز نہ کیا اور آپ کو پنج ہزاری کا منصب جلیلہ عطا فرما کر ان کی قدر افزائی کو چار چاند لگا دیئے۔اسی پر بس نہ کی نواب ظفر خان رستم جنگ کا خطاب بھی مرحمت فرمایا۔الغرض فرخ سیر کی جہاندار شاہ کی افواج سے جنگ ہوئی۔نواب ظفر خان رستم جنگ نے نہایت بہادری ، وفاداری اور شجاعت سے اس جنگ میں فرخ سیر کا ساتھ دیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فرخ سیر کی فوج ظفر موج فتح و کامرانی کا پھر میرا اُڑاتی ہوئی پنجاب پر قابض ہو گئی۔روشن الدولہ نواب ظفر اللہ خان کی خدمات کا صلہ فتح کے بعد مزید انعامات اور اعزازات کے رنگ میں ظہور پذیر ہوا اور نواب ظفر خان رستم جنگ روشن الدولہ کے عالی قدر خطاب اور منصب ہفت ہزاری پر فائز ہوئے۔اس طرح حضرت میران بھیک کے حجرہ درویشی میں بیٹھا ہوا خلوت نشین درویش سلطنت مغلیہ کا ایک آزمودہ کار جرنیل اور ایک مدبر اور دانشمند مشیر ثابت ہوا اور اب اُس کا پورا نام پورے القابات سے یوں لکھا اور پڑھا جانے لگا۔نواب ظفر اللہ خان رستم جنگ، روشن الدولہ ہفت ہزاری۔اس سارے قصے سے مجھے اس خاندان کے افراد کے متعلق یہ بتلا نا ہے کہ وہ کس طرح اپنے جسم پر دیبا وحریر کی عبائیں پہنے ہوئے ہوتے تھے مگر اندر ان کے جسم پر قباء درویشی ہوا کرتا تھا۔وہ بیک وقت صاحب سیف و قلم ہی نہیں صاحب دل بھی ہوتے تھے اور وہ اپنے زمانے کے ان لوگوں میں سے تھے جن پر ہندوستان کے امن کا قصر کھڑا تھا۔فرخ سیر کی وفات آخر وہ وقت آگیا کہ فرخ سیر اس جہان سے کوچ کر گیا اور محمد شاہ رنگیلا تخت نشین ہو گیا۔محمد شاہ