سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 39
39 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ سے سُنا۔اُس نے تہیہ کر لیا۔کہ وہ عظیم الشان جہاندار شاہ سے جو پنجاب پر حکومت کر رہا تھا بدلہ لے گا۔یادر ہے۔کہ خود فرخ سیر عظیم الشان جہاندار شاہ کا بیٹا تھا۔اور عظیم الشان جہاندار شاہ عالم بہادر شاہ کا بیٹا تھا۔اور بہادرشاہ خود شاہنشاہ اورنگ زیب کا بیٹا تھا۔فرخ سیر نے اس خونِ ناحق کا بدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔اس کے ہمرکاب سید حسین علی گورنر بہار۔سید عبداللہ گور نرالہ بادبھی تھے۔یہ وہ لوگ ہیں جو بادشاہ گر کہلاتے تھے۔سید میران بھیک جو اس وقت عالم درویشی میں فرد کامل تھے ، انہوں نے درویش ظفر اللہ خان سے کہا۔کہ ”بھائی سید ! اب تم بھی پھر اپنی کمر باندھ لو۔اور فرخ سیر کے پاس پہنچ جاؤ انہوں نے پیر ومرشد سے عرض کی "میرا دل ان جھگڑوں سے بیزار ہو گیا ہے۔میں اب اس عالم فانی کے دھندوں میں نہیں پڑنا چاہتا۔درویشی کی لذت کے سامنے ہفت اقلیم کی سلطنت کو بھی بے حقیقت جانتا ہوں مگر میران بھیک صاحب نے فرمایا: اللہ کی یہی مرضی ہے۔تم دل با یار اور دست با کار ہو گے رب العزت کو یہی منظور ہے۔کہ تم با دشاہی عہدہ دار بنکر اس کی مخلوق کو آرام پہنچاؤ۔مگر تمہارا خاتمہ بالخیر ہے۔تم کو جو باطنی دولت ہم نے بخشی ہے۔اسے دنیا کی دولت نہ مٹا سکے گی۔نواب ظفر اللہ خان نے پھر عرض کی۔” کہ یہ زمانہ طوائف الملو کی کا ہے۔ایسا نہ ہو کہ فرخ سیر کے پاس جاؤں اور اُسے مجھ سے کچھ بدگمانی ہو، اور لینے کے دینے پڑ جائیں۔کیونکہ سلاطین کی نگاہ میں آجکل امیروں وزیروں کا کچھ اعتبار نہیں رہا۔اس پر حضرت میران بھیک صاحب نے فرمایا۔کہ افسوس ہے تم کو اب تک فقیروں کی بات پر بھروسہ نہیں پیدا ہوامیں کہتا ہوں کہ تو بے کھٹکے فرخ سیر کے پاس چلا جا تیری ہر طرح تر قی اور عروج ہے“۔نواب صاحب کو اب مرشد کے حکم کے سامنے سر جھکاتے ہی بنی۔کھلی ہوئی کمر کس لی اور اُتری ہوئی تلوار پھر حمائل کر لی اور اس طرح یہ درویش سپاہی پھر میدانِ جنگ کے لئے تیار ہو کر فرخ سیر کے پاس پہنچا۔سید عبداللہ خان اور سید حسین علی خان گورنران یو۔پی و بہار نے ان کی بڑی تعریف کی اور فرخ سیر سے کہا کہ یہ خود معرکہ لاہور میں شریک تھے۔فرخ سیر بھی ان تعلقات سے ناواقف نہ تھا جو شاہنشاہ اورنگ زیب کے عہد سے اب تک خاندانِ شاہی سے چلے آتے تھے۔۔