سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 38 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 38

38 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ نواب ظفر اللہ خان تارک الدنیا بن گئے رفیع الشان اور جہان شاہ کے خلاف لاہور میں بغاوت ہوئی عظیم الشان جہاندار شاہ کی افواج نے لاہور میں رفیع الشان اور جہان شاہ اور ان کی خوبصورت اولا دوں کو خاک وخون میں ملا دیا۔نواب ظفر اللہ خان بھی اپنے خاندانی دستور کے مطابق اُن کے ہمراہ تھے۔انہوں نے اپنی ہمت اور طاقت کے مطابق داد شجاعت دی۔مگر قدرت الہی کو کچھ اور منظور تھا۔رفیع الشان اور جہان شاہ بمع اپنی اولادوں کے مٹ گئے۔اس نظارے نے نواب ظفر اللہ خان کے قلب کی حالت کو بالکل بدل دیا۔دنیا کی نا پائیداری نے دل کو بالکل سرد کر دیا اور سب جاہ وحشم پر لات مار دی اور پھر نوابی پر درویشی کو مقدم کر لیا۔حضرت میران شاہ بھیک صاحب اس زمانہ کے درویش کامل حضرت میران شاہ بھیک صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ پر بیعت کر کے درویش بن گئے۔حضرت میران شاہ بھیک سلسلہ چشتیہ صابریہ کے ایک بڑے کامل درویش تھے اور اس زمانہ میں مرجع خلائق بنے ہوئے تھے اور حضرت شاہ ابوالمعالی چشتی صابری جن کا مزار اب تک لاہور میں ایک خاص عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، کے جانشین اور خلیفہ تھے۔حضرت شاہ ابوالمعالی شیخ محمد داؤد گنگوہی کے مرید تھے جو شیخ محمد صادق صاحب گنگوہی کے مرید اور خلیفہ تھے۔یہ سلسلہ درویشی وتصوف حضرت مخدوم علاء الدین صابر کلیری تک پہنچ جاتا ہے۔الغرض آپ سلسلہ چشتیہ صابر یہ میں حضرت میران شاہ بھیک کے ہاتھ پر بیعت کر کے در ولیش ہو گئے۔حضرت شاہ میران بھیک کھرے سید تھے۔اور ہندی زبان کے خوش بیان شاعر بھی تھے۔چنانچہ آپ نے بہت سے ہندی زبان میں دوہڑے موزون کئے تھے جن میں توحید اور اسرار معرفت و تصوف بھرے ہوئے تھے ، اور اہل دل ان کو سن کر یا د کر لیا کرتے تھے کے درویش سے پھر میدان عمل میں فرخ سیر شاہنشاہ ہند نے رفیع الشان اور جہان شاہ اور ان کی اولاد کی قتل کی خبر کو نہایت دردمندی