سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 501
501 بسم الله الرحمن الرحيم سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ (۲۹) بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ عادت تھی کہ ہمیشہ رات کو سوتے ہوئے پائجامہ اُتار کر تہہ بند باندھ لیتے تھے اور عموماً کرتا بھی اُتار کر سوتے تھے۔بسم الله الرحمن الرحيم (۳۰) بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ تمہارے دادا کی زندگی میں حضرت صاحب کو سل ہوگئی اور چھ ماہ تک بیمار رہے اور بڑی نازک حالت ہوگئی حتی کہ زندگی سے نا امیدی ہو گئی۔چنانچہ ایک دفعہ حضرت صاحب کے چا آپ کے پاس آ کر بیٹھے اور کہنے لگے کہ دنیا میں یہی حال ہے۔سبھی کو مرنا ہے کوئی آگے گزر جاتا ہے کوئی پیچھے جاتا ہے اس لئے اس پر ہراساں نہیں ہونا چاہئے۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ تمہارے دادا خود حضرت صاحب کا علاج کرتے تھے اور برا بر چھ ماہ تک انہوں نے آپ کو بکرے کے پائے کا شور با کھلایا تھا۔بسم الله الرحمن الرحيم (۳۱) بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب میں چھوٹی لڑکی تھی تو میر صاحب ( یعنی خاکسار کے نانا جان ) کی تبدیلی ایک دفعہ یہاں قادیان بھی ہوئی تھی اور ہم یہاں چھ سات ماہ ٹھہرے تھے۔پھر یہاں سے دوسری جگہ میر صاحب کی تبدیلی ہوئی تو وہ تمہارے تایا سے بات کر کے ہم کو تمہارے تایا کے مکان میں چھوڑ گئے تھے۔اور پھر ایک مہینہ کے بعد آ کر لے گئے۔اس وقت تمہارے تایا قادیان سے باہر رہتے تھے اور آٹھ روز کے بعد یہاں آیا کرتے تھے اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے ان کو دیکھا ہے۔خاکسار نے پوچھا کہ حضرت صاحب کو بھی ان دنوں میں آپ نے کبھی دیکھا تھا یا نہیں ؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت صاحب رہتے تو اسی مکان میں تھے مگر میں نے آپ کو نہیں دیکھا اور والدہ صاحبہ نے مجھے وہ کمرہ دکھایا جس میں ان دنوں میں حضرت صاحب رہتے تھے۔آج کل وہ کمره مرز اسلطان احمد صاحب کے قبضہ میں ہے۔بسم الله الرحمن الرحيم (۳۲) بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے میری شادی سے پہلے حضرت صاحب کو معلوم ہوا تھا کہ آپ کی دوسری شادی دتی میں ہوگی۔چنانچہ آپ نے مولوی محمد حسین بٹالوی کے پاس اس کا ذکر کیا تو چونکہ اس وقت اس کے پاس تمام اہلحدیث لوگوں کی فہرست رہتی تھی اور میر صاحب بھی