سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 500 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 500

500 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ تھے؟ والدہ صاحب نے فرمایا کہ بس سارا دن کام میں ہی گزرتا تھا۔دس بجے ڈاک آتی تھی تو ڈاک کا مطالعہ فرماتے تھے اور اس سے پہلے بعض اوقات تصنیف کا کام شروع نہیں فرماتے تھے تاکہ ڈاک کی وجہ سے درمیان میں سلسلہ منقطع نہ ہو۔مگر کبھی پہلے بھی شروع کر دیتے تھے۔بسم الله الرحمن الرحيم (۲۶) بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ پہلے لنگر کا انتظام ہمارے گھر میں ہوتا تھا اور گھر سے سارا کھانا پک کر جاتا تھا۔مگر جب آخری سالوں میں زیادہ کام ہو گیا تو میں نے کہہ کر باہر انتظام کروا دیا۔خاکسار نے والدہ صاحب سے دریافت کیا کہ کیا حضرت صاحب کسی مہمان کے لئے خاص کھانا پکانے کیلئے بھی فرماتے تھے ؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا ہاں بعض اوقات فرماتے تھے کہ فلاں مہمان آئے ہیں ان کے لئے یہ کھانا تیار کر دو۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ شروع میں سب لوگ لنگر سے ہی کھانا کھاتے تھے۔خواہ مہمان ہوں یا یہاں مقیم ہو چکے ہوں۔مقیم لوگ بعض اوقات اپنے پسند کی کوئی خاص چیز اپنے گھروں میں بھی پکا لیتے تھے۔مگر حضرت صاحب کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ اگر ہو سکے تو ایسی چیزیں بھی ان کے لئے آپ ہی کی طرف سے تیار ہو کر جاویں اور آپ کی خواہش رہتی تھی کہ جو شخص جس قسم کے کھانے کا عادی ہو اس کو اسی قسم کا کھانا دیا جاسکے۔بسم الله الرحمن الرحيم (۲۷) حضرت والدہ صاحبہ نے مجھ سے بیان فرمایا کہ تمہارے تایا کے ہاں ایک لڑکی اور ایک لڑکا پیدا ہوئے تھے۔مگر دونوں بچپن میں فوت ہو گئے۔لڑکی کا نام عصمت اورلڑکے کا نام عبدالقادر تھا۔حضرت صاحب کو اپنے بھائی کی اولاد سے بہت محبت تھی۔چنانچہ آپ نے اپنی بڑی لڑکی کا نام اسی واسطے عصمت رکھا تھا۔بسم الله الرحمن الرحيم (۲۸) بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب تم بچے تھے اور شائد دوسری جماعت میں ہو گے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود رفع حاجت سے فارغ ہو کر آئے تو تم اس وقت ایک چار پائی پر الٹی سیدھی چھلانگیں مار ہے اور قلابازیاں کھا رہے تھے۔آپ نے دیکھ کر تبسم فرمایا اور کہا دیکھو یہ کیا کر رہا ہے۔پھر فرمایا اسے ایم۔اے کرانا۔