سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 502
502 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اہلحدیث تھے اور اس سے بہت میل ملاقات رکھتے تھے اس لئے اس نے حضرت صاحب کے پاس میر صاحب کا نام لیا۔آپ نے میر صاحب کو لکھا۔شروع میں میر صاحب نے اس تجویز کو بوجہ تفاوت عمر نا پسند کیا۔مگر آخر رضامند ہو گئے اور پھر حضرت صاحب مجھے بیاہنے دتی گئے۔آپ کے ساتھ شیخ حامد علی اور لالہ ملا وامل بھی تھے۔نکاح مولوی نذیر حسین نے پڑھا تھا یہ ۲۷/ محرم ۱۳۰۲ھ بروز پیر کی بات ہے اس وقت میری عمر اٹھارہ سال کی تھی۔حضرت صاحب نے نکاح کے بعد مولوی نذیرحسین کو پانچ روپے اور ایک مصلی نذر دیا تھا۔بسم الله الرحمن الرحيم (۳۳) بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دورے پڑنے شروع ہوئے تو آپ نے اس سال سارے رمضان کے روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا۔دوسرا رمضان آیا تو آپ نے روزے رکھنے شروع کئے مگر آٹھ نو روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ ہوا اس لئے چھوڑ دیئے اور فدیہ ادا کر دیا اس کے بعد جو رمضان آیا تو اس میں آپ نے دس گیارہ روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ کی وجہ سے روزے ترک کرنے پڑے اور آپ نے فدیہ ادا کر دیا اس کے بعد جو رمضان آیا تو آپ کا تیرہواں روزہ تھا کہ مغرب کے قریب آپ کو دورہ پڑا اور آپ نے روزہ توڑ دیا اور باقی روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا اس کے بعد جتنے رمضان آئے آپ نے سب روزے رکھے مگر پھر وفات سے دو تین سال قبل کمزوری کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکے اور فدیہ ادا فرماتے رہے خاکسار نے دریافت کیا کہ جب آپ نے ابتداء دوروں کے زمانہ میں روزے چھوڑے تو کیا پھر بعد میں ان کو قضا کیا ؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ نہیں صرف فدیہ ادا کیا تھا۔بسم الله الرحمن الرحيم (۳۴) بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اوائل میں غرارے استعمال فرمایا کرتے تھے پھر میں نے کہہ کر وہ ترک کروادئیے اس کے بعد آپ معمولی پائجامے استعمال کر نے لگ گئے۔بسم الله الرحمن الرحيم (۳۵) بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جمعہ کے دن خوشبو لگاتے اور کپڑے بدلتے تھے۔