سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 37
37 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ نواب سر بلند خان میر بخشی ( کمانڈر انچیف افواج) کی حقیقی ہمشیرہ سے کروادی۔نواب سر بلند خاں صاحب صحیح النسب سید تھے اور خواجہ سید بہاء الدین صاحب نقشبند کی اولاد میں ہی سے تھے۔الغرض خواجہ نواب سید فتح اللہ خان صاحب نے پسند کیا کہ بجائے اس کے کہ وہ اپنا تعلق دامادی شاہی محل سے پیدا کریں وہ اپنے خاندان سے باہر نہ جائیں۔نواب سر بلند خان میر بخشی کا وجود بتلاتا ہے کہ اس خاندان پر اور نگ زیب کو انتہائی اعتماد تھا۔یہی وجہ تھی کہ حکومت کے سول اور فوج کے بڑے بڑے عہدے اس خاندان کے اراکین کے سپر د تھے اور اس طرح دہلی ہی نہیں بلکہ ہندوستان بھر کی سیاست میں اس خاندان کا وقیع اثر تھا۔نواب فتح الله خان سید محمد طاہر صاحب کے خاندان میں پہلے شخص تھے جو اس قدر بلند منصب پر فائز ہوئے اور نوابی“ اور ”خانی“ کے خطاب سے مفتخر کئے گئے۔نواب ظفر اللہ خان روشن الدوله رستم جنگ نواب فتح اللہ خان صاحب کے مشکوئے معلی میں اور نواب سر بلند خان میں بخشی کی ہمشیرہ کے بطن سے ایک نو نہال پیدا ہوئے۔جن کا نام خواجہ سید محمد ظفر اللہ خان رکھا گیا۔سید محمد ظفر اللہ خان اس خاندان میں پہلا شخص تھا جس کا باپ نواب تھا اور حکومت اور نگ زیب میں بہت بڑا دخل اور رسوخ رکھتا تھا اور اس کا ماموں بھی نوابی کے بلند و بالا خطاب سے مفتخر تھا اور کمانڈرانچیف افواج شاہنشاہی تھا اور نسبی عظمت کے لحاظ سے دو ہیال اور نھیال کی طرف سے ایک ہی خاندان کا نونہال تھا۔یعنی حضرت سید بہاء الدین نقشبند کے خاندان اور نسل سے سید محمد ظفر اللہ خان نے رفیع الشان بن شاہ بن شہنشاہ اورنگ زیب کی سرکار سے معزز عہدے پائے اور جلد ترقی کر کے پانچصد سوار کا منصب حاصل کیا اور نواب ظفر اللہ خان کا خطاب حاصل کیا۔نواب ظفر اللہ خان کو خاندان شاہی میں بہت اعتماد حاصل تھا اور وہ شاہی خاندان کے ساتھ ہمیشہ وفا دارانہ طور پر رہے۔