سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 36
36 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سید فتح اللہ بھی ان بزرگوں میں سے تھے جو اپنے اندر با وجود بلند منصبی کے درویشی کا رنگ رکھتے تھے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شاہنشاہ اورنگ زیب کو ان کا کس قدر پاس تھا کہ باوجود اس کے کہ ان کا انکار نہ صرف منشاء شاہی کے خلاف تھا بلکہ اگر کوئی پُر امفہوم لینے والا ہوتا تو شایدا سے خاندانِ شاہی کی ہتک بھی خیال کر لیتا مگر چونکہ اور نگ زیب اس خاندان کی بے نفسی اور درویشی پر پورا یقین رکھتا تھا اس لئے اس نے ان کے منشاء کو مقدم کر لیا۔اگر یہ لوگ و جاہت طلبی کی تلاش میں ہندوستان آئے ہوتے تو ایسے موقعہ کو بسا غنیمت جان لیتے اور بلکہ وہ خود اس تلاش میں رہتے کہ کوئی ایسا موقعہ میٹر آئے لیکن ان کی حالت بالکل اس کے خلاف تھی کہ موقعہ میسر آنے پر بھی انکار کر دیتے تھے۔حضرت مسیح موعود کا خاندان یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے ذکر کا تو کوئی موقعہ نہیں مگر ایک مناسبت سے میں ان کا ذکر بھی کرنا چاہتا ہوں۔قدرت الہی نے چونکہ آگے چل کر دونوں خاندانوں کو ایک کر دینا تھا اس لئے ان دونوں خاندانوں میں ایک مناسبت چلی آتی ہے۔حضرت مسیح موعود کے مورث اعلیٰ بڑی شان و شوکت سے بابری عہد میں وارد ہندوستان ہوئے۔بابر تیموری خاندان کا بادشاہ تھا اور خاندان مسیح موعود او پر چل کر تیمور کے چچا زاد بھائیوں کا خاندان تھا۔اس لئے میرزا ہادی بیگ نسل کے لحاظ سے ایک ہی درخت کی دوسری شاخ تھا اور بابر سے ان کو نسبت اخوت تھی لیکن انہوں نے دتی کی رہائش کی بجائے دلی سے پانچ سو میل دور پنجاب میں دریائے بیاس کے کنارے پر بالکل ایک گمنام اور اُجاڑ گوشہ میں رہائش اختیار کر لی اور دتی کی شان و شوکت سے ذرا بھی حصہ نہ لینا چاہا اور ان مناصب جلیلہ کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ورنہ بہت ممکن تھا کہ بابری تخت کے قرب میں یہ خاندان نہ صرف یہ کہ مناصب جلیلہ پر فائز ہوتا بلکہ کسی کمزوری کے وقت خود برسر اقتدار ہو کر تخت دہلی پر جلوہ افروز ہوتا۔الغرض یہ ایک مناسبت تھی کہ خاندانِ مسیح موعود بھی با وجودشاہی خاندان ہونے کے درویشی اور عزلت نشینی کو مقدم کرتا رہا۔قصہ مختصر نواب سید فتح اللہ خان صاحب کے اس انکار پر شاہنشاہ اورنگ زیب نے ان کی شادی