سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 35
35 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ عقیدت مندی کی تکمیل کی بلکہ اس خیال سے کہ لوگ ان کو محض درویش ہی خیال نہ کرتے رہیں اپنے برابر کر لیا۔اس طرح اس خاندان در ولیش کو درویشی اور حکومت کی دونوں نعمتوں سے مالا مال کر دیا۔اسی خاندان سے ایک بزرگ خواجہ سید محمد یعقوب بھی اس دوسرے قافلہ میں آئے تھے۔ان کے بیٹے خواجہ سید موسیٰ کو اپنے پوتے شہزادہ معز الدین کی بیٹی فرخندہ اختر سے بیاہ دیا۔مرشد زادے اب یہ ایک قدرتی بات تھی کہ خیال پیدا ہو کہ جو بچے ان جوڑوں سے پیدا ہوں کے مغل شہزادوں کی نگاہ میں ان کا کیا مقام ہوگا کہیں وہ ان کو کم درجے کا خیال نہ کرنے لگیں۔اس لئے جو بچے ان سے پیدا ہوئے وہ قلعہ معلے والوں کی اصطلاح میں مرشد زادے کہلاتے تھے اور ان کا بڑا احترام کیا جاتا تھا۔نواب سید فتح اللہ خان میں بتلا چکا ہوں کہ خواجہ سید محمد طاہر صاحب نے دنیا کے مال و منال کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہ دیکھا اور بالآخر وہ حرمین الشریفین کی زیارت کے لئے چلے گئے اور یہ سفران کا ہندوستان سے دیار محبوب میں ہجرت کا سفر تھا۔ان کے صاحبزادوں کے متعلق بھی میں لکھ چکا ہوں کہ ان کو نہ صرف منصب اور مقام عالی نصیب ہوا بلکہ اور نگ زیب نے ان کو شاہی خاندان میں داخل کر لیا تھا اور یہ عزت سوائے اس خاندان کے کسی اور خاندان کو نصیب نہیں ہوئی۔حضرت خواجہ سید محمد طاہر صاحب کے تیسرے لخت جگر سید فتح اللہ صاحب تھے۔شاہنشاہ نے ان کو نواب اور خان کے خطاب سے سرفراز فرمایا۔اس طرح آپ نواب فتح اللہ خان کہلائے اور اس عہد میں خانی کا خطاب بہت بڑا درجہ اور اعزاز تھا۔خطاب کے سوا منصب بھی دیا گیا اور یہ چاہا کہ ان کے بھائیوں کی طرح ان کی شادی بھی کسی شہزادی سے کر دی جائے مگر آپ نے شاہنشاہ سے کہہ دیا کہ اگر چہ شریعت غزا میں اس امر کی اجازت ہے کہ ایک مغل یا پٹھان کو ایک سید زادی بیاہ دی جائے یا ایک سید کو ایک مغلانی یا پٹھانی بیاہ دی جائے مگر میں اپنے لئے پسند نہیں کرتا کہ میری بیوی مغلانی یا پٹھانی ہو۔شاہنشاہ نے ان کی اس بات کو پسند کیا۔