سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 439 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 439

439 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ دونوں کو برابر کھانے کی چیزیں عطا فرماتے۔میں آخر بچہ ہی تھا اور بچہ بھی شوخ ، مجھے شرارت سو جبھی میں نے پیپر منٹ کی گولی کی بجائے صاحبزداہ مبارک احمد صاحب کو کونین کی گولی دے دی وہ گولی حلق میں پھنس گئی اور میں ڈر کے مارے بھاگ کر ایک کواڑ کے پیچھے چھپ گیا۔حضرت صاحبزادہ صاحب کی حالت دگرگوں ہو گئی۔آنکھیں سرخ ہو گئیں۔حضرت اقدس کو علم ہوا آپ نے پانی دیا جس سے گولی تو نکل گئی۔اب میری تلاش شروع ہوئی اور میں پکڑا ہوا آیا۔حضور نے ایک نہایت ہی ہلکی سی چپت میری گردن پر لگائی ( مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ چپت ابھی لگی ہے ) میں رو پڑا اور میری ٹوپی گر گئی تھی۔حضرت اقدس نے خود ٹوپی اُٹھا کر مجھے پہنائی اور پیار کرنے لگے اور نصیحت فرماتے تھے کہ اتنے میں حضرت اماں جان بھی کمرے سے باہر آگئے اور مجھے بجائے مارنے اور سزا دینے کے پیار کیا۔یہ مادرانہ شفقت مجھے کبھی نہیں بھول سکتی۔غرض حضرت اُم المؤمنین کی زندگی میں یہ ایک عام معمول ہے کہ وہ غرباء اور مساکین کی دلداری انتہائی درجہ فرماتی ہیں اور ان کے ساتھ ایسے رنگ میں سلوک فرماتی ہیں کہ کوئی ان کو حقیر نہ سمجھے اور نہ ان کی اپنی خودداری کی حس کو صدمہ پہنچے۔یہ ایک ایسا اعلیٰ درجہ کا اخلاق ہے کہ خدا تعالیٰ کے خاص فضل کا نمونہ ہے۔عام طور پر غرباء و مساکین اور نوکروں کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے اس سے ان کی اخلاقی قو تیں مرجاتی ہیں اور وہ بیچارے اپنے آپ کو انسان بھی نہیں سمجھتے۔جانوروں کی طرح ان سے کام لیا جاتا ہے مگر حضرت اُم المؤمنین کی زندگی کا ایک بھی واقعہ ایسا نہیں کہ آپ نے خدا تعالیٰ کی اس مخلوق کو جو آپ کی خدمت میں آئی ہو کبھی ان پر اظہار ناراضگی کیا ہو یا ان کوحقیر سمجھا ہو بلکہ ان کو اپنے ہی کنبہ اور خاندان کا ایک فرد یقین کیا اور اس سے وہی سلوک فرمایا جو اپنے عزیزوں سے کرتی ہیں۔آپ کا گھر ہر شکستہ خاطر اور مخلوق کے دھتکارے ہوئے بیکسوں کا پناہ گاہ رہا ہے یتیم مسکین بچے بیوہ عورتیں اور ضعیف اور بے سہارا کنبے آپ کی سر پرستی میں بڑھے پھلے پھولے اور آرام کی زندگی بسر کرتے رہے آپ نے ان کی ہر طرح سر پرستی فرمائی۔بچوں کی تعلیم و تربیت ان کی خوراک و پوشاک اور شادیوں میں مادرانہ شفقت کا عملی مظاہرہ فرمایا۔