سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 438
438 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کے قادیان آگئے ان کے اہل وعیال سب ساتھ تھے۔حضرت اماں جان نے از راہ شفقت ان کو الدار میں ہی جگہ دے دی۔حضرت حافظ صاحب نے ایام ملازمت میں اچھے دن دیکھے ہوئے تھے مگر اس وقت وہ مختلف ابتلاؤں میں زندگی بسر کر رہے تھے۔مگر حضرت ام المؤمنین نے اس خاندان کو اپنے سایہ عاطفت میں لے لیا۔عزیز احمد اللہ خاں نے اپنے بیان کو اپنی والدہ کی روایات پر مبنی کیا ہے وہ کہتا ہے کہ میری والدہ کے سپر د حضرت اماں جان اور حضرت اقدس کے لئے کھانا تیار کرنا اور وقت مقررہ پر دودھ یا سردائی وغیرہ تیار کر کے دینا تھا اس وجہ سے میری والدہ علی العموم حضرت اماں جان ہی کے پاس رہا کرتی تھیں۔میری عمر اس وقت چھ سات ماہ کی تھی اور میں حضرت صاحبزادہ مبارک احمد مرحوم کا ہم عمر تھا۔میری والدہ سنایا کرتی تھیں کہ کئی مرتبہ جبکہ میں کام میں مصروف ہوتی تھی اور میں بھوک کی وجہ سے رو پڑتا تو اماں جان خود اٹھا کر گود میں لے لیتی تھیں اور محبت و پیار کر کے چپ کرا تیں بلکہ کئی دفعہ آپ نے اپنی کمال شفقت اور کرم سے اپنا شیر مبارک بھی پلایا اور اسی طرح میری والدہ صاحبہ مرحومہ نے حضرت صاحبزادہ مبارک احمد صاحب مرحوم کو دودھ پلایا اور میرے خاندان کو یہ شرف عطا فرمایا گیا کہ مجھے اپنا رضاعی بیٹا بنا لیا۔میں اسی طرح حضرت اماں جان کی سر پرستی میں پرورش پاتا رہا۔میرے بہن بھائی سب آپ کے فیوض و برکات سے حصہ لے رہے تھے اور کبھی ہم میں سے کسی کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھا۔جب میری عمر پانچ چھ برس کی ہوگئی تو میں کبھی اپنی ماں سے کھانے کی کوئی چیز طلب کرتا یا بگڑنے لگتا تو حضرت اماں جان خود باورچی خانہ میں تشریف لے آتیں اور میری والدہ سے فرماتیں کہ اس کو کھانا کیوں نہیں دیتیں۔بچہ بلک رہا ہے۔اس پر میری والدہ جواب عرض کرتیں کہ یہاں پر میری اپنی تو کوئی چیز نہیں ہے اس لئے آپ کی اجازت کے بغیر یہاں سے کوئی چیز بھی ہلا نہیں سکتی ہوں۔حضرت اماں جان کی شفقت دیکھو اس پر ارشاد ہوتا کہ بچہ جو مانگتا ہے دے دیا کرو یہاں تک کہ ملائی والا دودھ جو حضرت اقدس کے لئے کڑہتا رہتا تھا اس میں سے اپنے سامنے کٹورے میں ڈلوا کر مجھے پلواتیں۔کبھی صاحبزادہ مبارک احمد صاحب دیر تک میرے ساتھ کھیلتے رہتے تو خادمہ کو بھیج کر فرمایا کرتیں کہ مبارک۔احمد علی خاں ( اس وقت میرا نام احمد علی خاں تھا۔بعد میں حضرت اقدس نے احمد اللہ خاں بدل دیا ) کے ساتھ کھیل رہا ہو گا اس کو لے آؤ ہم دونوں جاتے تو