سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 440
سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ 440 (۳) فضل الدین عرف فجا ایک معمار قادیان میں رہتا ہے۔ابتداوہ مرزا نظام الدین صاحب کے گھر میں رہتا تھا اور پھر وہ حضرت کے گھر میں آگیا۔وہ یتیم تھا اور مرزا نظام الدین صاحب کے ہاں اس کی تربیت تو کیا ہو سکتی تھی اس کے ساتھ کوئی اچھا سلوک بھی نہ تھا قدیم زمانے کے غلاموں کی سی حالت تھی جب وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر میں آیا تو وہ گویا جنت میں آ گیا۔اس کی ہر قسم کی تربیت ہونے لگی اور گھر کے افراد کی طرح اس کے ساتھ سلوک ہونے لگا کیونکہ یہاں نوکروں کے ساتھ غلاموں کا سا سلوک کبھی نہیں ہوا۔ایک مرتبہ وہ جل گیا خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اس کے علاج کی طرف توجہ تھی اور شفقت اور ہمدردی سے علاج ہو رہا تھا۔حضرت اُم المؤمنین کو بھی اپنی رحیم فطرت اور یتامی و مساکین نو از عادت کی وجہ سے خاص توجہ تھی۔آخر وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے شفا یاب ہوا۔وہ ایک مخلص احمدی ہے۔حضرت اُم المؤمنین از راه شفقت و ہمدردی کبھی کبھی اس کے گھر پر بھی تشریف لے جا کر اس کی عزت افزائی فرماتی ہیں اور اس طرح جماعت میں ایک عملی روح پیدا کرتی ہیں کہ ذات پات نسب اور رنگ یا مال، دولت معیار تکریم نہیں۔سلسلہ میں داخل ہو کر سب بھائی بھائی ہیں۔ان کا امتیازی مقام ان کا اخلاص اور تقویٰ اللہ ہے۔میں نے فضل الدین کو دیکھا ہے کہ جب وہ حضرت اُم المؤمنین کے احسانات اور شفقتوں کا تذکرہ کرتا ہے تو اس میں ایک کیفیت وجد پیدا ہو جاتی ہے۔یہ ایک مثال نہیں ایسی بہت سی مثالیں اور واقعات ہیں کہ حضرت اُم المؤمنین نے بیتامی ، مساکین اور بیکسوں کو سہارا اور پناہ دی اور ان کے رنج کو اپنا رنج یقین کیا اور ان کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھا۔دوسروں کی تکلیف دیکھ کر بے قرار ہو جاتی ہیں حضرت اُم المؤمنین اپنی تکالیف کو تو نہایت حوصلہ اور عزم وصبر سے برداشت کرتی ہیں اپنی بیماری میں ہائے وائے کچھ نہیں۔عزم اتنا بلند ہے کہ ذرا طبیعت میں سکون ہوا تو فوراً اپنے روزانہ مشاغل میں مصروف ہو جاتی ہیں۔بالکل وہی رنگ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تھا لیکن اگر کسی دوسرے کو تکلیف اور مصیبت میں دیکھیں تو بے قرار ہو جاتی ہیں۔