سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 393 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 393

393 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ہے مجھے خوشبو اور عورت پسند ہے بلکہ خاوند کے لئے سنگھار کرنا، مہندی لگانا وغیرہ سنت رسول اللہ ہے بال کسی قسم کے بنے ہوئے نہیں۔جوانی میں بھی بالکل سیدھی مانگ رکھتی تھیں۔الم المؤمنین کی دینداری میں نے آپ کو اصلی طریق سے بہت عبادت گزار پا بند نماز تہجد اور نوافل کو دلی توجہ سے ادا کرتے دیکھا اور صحیح اسلامی رنگ میں نہایت درد و سوز و گداز سے نماز ادا فرماتے دیکھا۔نمازوں میں دعائیں ما نگتے سنا۔علالت کی وجہ سے روزے اگر خود نہیں رکھ سکتی ہیں تو با قاعدہ کئی ایک غریب وصالحہ عورتوں کو خاص اپنا کھانا دے کر روزے رکھوائے۔حج بدل دو تین بار اپنی طرف سے کروایا ہے۔صدقہ وخیرات میں سب سے زیادہ حصہ لیتی ہیں۔چندہ اپنی خاص جیب سے ادا فرماتی ہیں یعنی ہر ایک نئی تحریک یا ضرورت قومی کا چندہ بلکہ کئی دفعہ یہ ارادہ ظاہر فرمایا ہے کہ حضرت ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا چمڑہ رنگ کر قومی ضروریات میں چندہ ادا فرماتی تھیں۔میرا بھی جی چاہتا ہے کہ کوئی ایسا ذاتی محنت کا کام کر کے چندہ دوں کہ ثواب زیادہ ملے۔تحریک جدید میں ہزاروں روپے چندہ ادا فرمایا ہے۔ہماری امتہ الحی لائبریری میں بھی چندہ دیا تو کسی نے عرض کیا کہ حضرت عالیہ آپ کے لئے ہی تو کتا ہیں ہیں آپ کو چندہ دینے کی کیا ضرورت فرمایا یہ ثواب کے لئے ہے۔آپ کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام بہت قدر فرماتے حضرت اقدس حضرت ام المؤمنین کی بہت زیادہ عزت واحترام اور قد رفرماتے ایک تو حضور اعلیٰ کو الہام بھی ہوئے اور سید زادی کی نسل بڑھنے کی بشارت بھی فرمائی اور خدیجہ الکبری نام رکھا اور پھر حضرت اقدس سا رحیم کریم النفس انسان دنیاوی باتوں میں بھی خاطر ملحوظ نہ رکھتا یہ ناممکن۔ایک دفعہ حضرت اماں جان نے یہ واقعہ سنایا کہ میرا جی چاہا کہ مبارکہ بیگم جب کہ چھوٹی سی تھیں کے لئے ایک بنارسی دو پٹہ بناؤں اور ایک بہو صاحبہ کے لئے (اُم ناصر احمد ) جس کا شائد رخصتا نہ بھی تھا تو حضرت اقدس سے کہا کہ لاہور قریشی صاحب کو لکھیں کہ عمدہ سا کپڑا لے کر بھیج دیں آپ نے فرمایا کتنا روپیہ درکار ہوگا تو عرض کیا کہ دو تین سو میں آجائیں گے فرمایا اتنا روپیہ تو میرے پاس نہیں فی الحال بہو کا بنا لیں۔مبارکہ کو پھر منگوا دیں گے۔میں نے تسلیم کیا اور کہا اچھا جتنا آپ کی مرضی تو آپ خط لکھنے لگے اور