سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 394 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 394

394 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ دریافت فرمایا کہ کتنا کپڑا لکھوں میں نے کہا نوگز بنارسی کپڑا لکھیں۔آپ نے نہایت سادگی سے اپنی حالت ( ذوق) میں لکھ دیا جب کپڑا آیا تو تین دوپٹے بن گئے ایک مبارکہ بیگم کا اور دودونوں دلہنوں کے پھر جب حضور والا نے روپے ادا کر دیئے تو کچھ دیر بعد بتایا گیا کہ لوجی تین دوپٹے بن گئے اس وقت حضرت اقدس کو بتایا گیا کہ تین گز کا ایک دو پٹہ ہوتا ہے تو حضرت مسکرا کر خاموش ہو گئے اور فرمایا (اچھا ) اس بات سے جتنا حضور اقدس کا استغنا دنیا سے ظاہر ہوتا ہے اتنا ہی اماں جان کا تدبر اور لیاقت۔حضرت ام ناصر احمد صاحب نے ایک دفعہ ذکر کیا کہ حضرت اماں جان بیمار تھیں اور حضرت اقدس تیمار داری فرماتے کھڑے دوائی پلا رہے تھے اور حالت اضطراب میں اماں جان کہہ رہی تھیں ہائے میں تو مر جاؤں گی آپ کا کیا ہے بس اب میں مرچلی ہوں تو حضرت نے آہستہ سے فرمایا تو تمہارے بعد ہم زندہ رہ کر کیا کریں گے ؟ ایسی ایسی دل نوازی کی ہزاروں باتیں ہیں۔امان جان صابر و شاکر حضرت اُم المؤمنین علیها السلام نہایت رقیق القلب ہیں کئی ایک غریب لڑکیوں کے بیاہ کے رخصتانہ کے وقت آپ کی آنکھوں میں آنسو میں نے خود دیکھے ہیں کسی کی مصیبت کا حال سن کر نہایت دردمند ہو جاتیں ہیں مگر جب کسی اور کوتسلی یا تشفی دینی ہو بہت بہادر بہت مستقل مزاج دیکھا ہے چنانچہ اس کی نسبت مجھے دو واقعے تو اچھی طرح یاد ہیں۔ا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کا پہلا بچہ میاں حمید احمد مرحوم ہنستا کھیلتا یکدم فوت ہو گیا تو اس کی والدہ نے پہلے تو ذرا صبر رکھا۔آخر ایک دلدوز آہ اور شیخ ان کے منہ سے نکلی۔ہم سب پاس ہی بیٹھی تھیں۔آخراماں جان باہر صحن سے اندر کمرہ میں تشریف لائیں اور اپنی بہو کو گلے لگایا اور فرمایا ! رونا نہیں مگر چیخ مارنا بیتاب ہونا یہ تو اللہ تعالیٰ اپنے محسن اور خالق سے لڑائی ہے کہ ” تو نے ہمارا بچہ لیا کیوں وہ حکیم وعلیم ہے اگر نہ دیتا تو اس پر کیا شکوہ اور اگر ہمیں اس قابل نہیں سمجھا کہ یہ بچہ ہمارے ہاں رہتا تو اس کی یہ عین حکمت ہے۔اس نے ایک نعمت کے لینے پر بشرط صبر رضا بالقضنا مزید نعمتوں کا وعدہ فرمایا ہے۔پس صبر سے کام لو۔بے صبروں پر یہ وعدہ پورا نہ ہوگا ؟ یہ سن کر والد ہ مظفر احمد سلمہ تو خاموش ہوگئیں اور میں گھنٹوں ان فقرات پر سر دھنتی رہ گئی۔سو اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اب خدا تعالیٰ نے پانچ لائق اور نیک وسعید لڑ کے والدہ مظفر احمد کو عطا فرمائے ہیں۔اسی طرح نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی