سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 374 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 374

374 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ سے کھلاتی رہیں اور ایسی محبت شفقت سے باتیں کرتی رہیں جیسے صرف یہی آپ کے بچے ہیں اور سب رشتہ داروں کا حال دریافت فرماتی رہیں۔نوٹ : اس میں کیا کلام ہے کہ ہم سب حضرت اُم المؤمنین کی روحانی اولاد ہیں اور ہماری اولا دیں اور نسلیں آپ کے ساتھ یہی نسبت رکھتی ہیں۔اللہ تعالی نے آپ کو ام المؤمنین کا تو مقام ہی عطا فرمایا ہے اس لئے آپ کی محبت ہم سب اور ہماری اولادوں کے ساتھ کچی اور حقیقی محبت ہے۔ماں باپ اپنی اولاد سے جو محبت کرتے ہیں وہ طبعی ہوتی ہے اور انبیاء علیہم السلام جو محبت کرتے ہیں وہ محض خدا کی رضا کے لئے ہوتی ہے اس میں نمائش تکلف اور ذاتی اغراض کا کوئی شائبہ نہیں ہوتا۔حضرت ائم المؤمنین نے خدا تعالیٰ کے مامور ومرسل کی رفاقت میں اپنے فرائض اور عمل کے دائرہ کی وسعت اور اس خدا داد کنبہ کی کثرت کو سمجھ لیا تھا اور خدا تعالیٰ نے خود ان کے دل میں انشراح اور اخلاق میں رفق پیدا کر دیا تھا ان کا عمل ایک اسوہ حسنہ ہونے والا تھا۔حضرت اُم المؤمنین کو اسی طرح اپنے بچوں کی دلداری کا خیال رہتا ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو رہتا تھا۔حضرت اُم المؤمنین کو ایک بصیرت کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وحی پر ایمان تھا جس میں فرمایا گیا ہے کہ لوگوں سے تھکنا نہیں۔حضرت اُم المؤمنین کا یہی حال ہے وہ اپنی ناسازی مزاج اور ایام علالت میں بھی مہمانوں سے دل تنگ نہیں ہوتی ہیں اور ان کی دلداری کو مقدم مجھتی ہیں اور تحائف کو قبول کر کے لانے والوں کو خوشی اور دلجوئی اور ان کے نیات کے نیک مقصد کی قدر فرماتی ہیں۔وہ خدام کو اپنے عزیز بچے یقین کرتی ہیں۔آج نہیں ہمیشہ سے۔اللَّهُم مَتَّعْنَا بِطُولِ حَيَاتِهَا آمين - (عرفانی) حضرت والد صاحب عرفانی کبیر کے تاثرات میری تحریک پر حضرت والد صاحب نے ایک مختصر سا مضمون لکھ کر ارسال فرمایا ہے جس کو میں با صلبها درج کرنے کی مسرت وسعادت حاصل کرتا ہوں۔محمود احمد عرفانی عزیز مکرم ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته آپ نے تحریک کی ہے کہ میں سیرت ام المؤمنین کے سلسلہ میں اپنے تاثرات کا اظہار کروں۔میاں ! حضرت ام المؤمنین کی سیرت وشان میں ایک مبسوط کتاب بھی کافی نہیں ہو سکتی۔میری ضعیفی اور