سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 375 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 375

375 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ آئے دن کی علالت الگ مانع ہے تاہم شریک ثواب ہونے کیلئے مختصراً اپنے تاثرات کا اظہار کرتا ہوں۔وبالله التوفيق (خاکسار عرفانی کبیر) ا۔حضرت ام المؤمنین کا مقام حضرت اُم المؤمنین سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ مدظلہ العالی کے مقام ورتبہ کے متعلق جب میں غور کرتا ہوں تو اسے اتنار فیع پاتا ہوں کہ زبان قلم اور قلم زبان اس کے بیان کرنے سے قاصر ہے۔حضرت رب العالمین نے اسے اپنی نعمت اور اپنی خدیجہ فرمایا۔خدا تعالیٰ کی یہ وہ نعمت ہے جس کے ذکر ( یا درکھنے ) کا ارشاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہوا۔ہاں اس جلیل القدر انسان کو جس کی آمد کو آنحضرت ﷺ نے اپنی آمد قرار دیا اور جس کے وجود کو امت محمدیہ کی ہلاکت سے صیانت کا ذریعہ فرمایا نہ صرف یہ بلکہ حضرت نبی کریم ﷺ نے اس خاتون مبارکہ کی پیشگوئی بھی فرمائی جو اس کے حبالہ نکاح میں آنے والی تھی اور جس کے بطن شریف سے وہ نسل پیدا ہونے والی تھی جو ایمان کو ثریا پر سے لانے والی تھی۔حضرت اُم المؤمنین سیدہ نصرت جہاں بیگم آیات اللہ میں ایک آیتہ ہیں اور میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا اور فرماتے ہوئے سنا کہ آپ حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کو شعائر اللہ میں سے یقین کرتے تھے اور میں نے حضرت مسیح موعود کو ایک مرتبہ یہ بیان کرتے بھی سنا کہ میں نے ایک دفعہ بلند آواز سے آپ کو خطاب کیا تو میں نے اس کے کفارہ میں صدقہ دیا۔حضرت ام المؤمنین کی رفعت شان کا کسی قدرا ندازہ اسی سے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موعود ادیان کی زوجیت کیلئے ازل میں اسے مقد رفرمایا اور اس مقام کی عظمت اور اس نعمت کے اظہار شکر میں حضرت ممدوحہ نے فرمایا۔چن لیا تو نے مجھے اپنے مسیحا کیلئے ۲۔حضرت ام المؤمنین کی سیرت کا ایک ورق جیسے حضرت اُم المؤمنین کی شان و مقام کے اظہار سے قلم زبان قاصر ہے۔آپ کی سیرت کے مختلف پہلوؤں پر بحث بھی آسان نہیں۔مجھے ۱۸۸۹ء سے حضرت ام المؤمنین کو کسی قدرقریب سے اور ۱۸۹۸ء سے بہت قریب سے دیکھنے اور آپ کی شفقت و کرم کا تجربہ کرنے کا موقع ملا ہے اور میں ایک