سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 373 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 373

373 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حضرت منشی حافظ نبی بخش صاحب رضی اللہ عنہ کے فرزند رشید اور سلسلہ کے ایک کامیاب اور مخلص مبلغ و مجاہد مولوی حکیم فضل الرحمن صاحب مبلغ افریقہ کے برادر عزیز ہیں وہ اپنی اہلیہ محترمہ عنایت بیگم صاحبہ کی بیان کی ہوئی روایات کا ذکر کرتے ہیں۔(1) ۱۹۳۳ء میں میری اہلیہ میرے بڑے بھائی فضل الرحمن صاحب مبلغ افریقہ کے ہاں ٹھہری ہوئی تھیں۔وہاں حضرت اُم المؤمنین میری ایک چھوٹی ہمشیرہ کی شادی کی تقریب پر تشریف فرما ہوئیں تو میری اہلیہ نے جام پور ضلع ڈیرہ غازی خان کی تیار کردہ دولکڑی کی تھالیاں بطور تحفہ پیش کیں جو حضور نے کمال شفقت سے منظور فرمائیں اور دیر تک میری بیوی سے محبت سے گفتگو فرماتی رہیں۔بچوں کو پیار کیا اور جب کھانا پیش کیا تو میری بیوی نے عذر کیا کہ حضور تناول فرمائیں میں پنکھا کرتی ہوں لیکن حضور نے پھر بھی اصرار فر ما یا اس پر میری بھاوج صاحبہ نے میری اہلیہ سے کہا کہ آپ بھی کھا لیں آپ بھی مہمان ہیں۔حضرت اُم المؤمنین نے سن کر فرمایا نہیں یہ مہمان کس طرح ہیں یہ بھی انہیں کا گھر ہے۔گو بات معمولی تھی اور بہ ظاہر میری بھاوج صاحبہ نے ایک طرح پر سچ کہا تھا۔لیکن حضرت ام المؤمنین نے اس معمولی سی دوئی کو بھی پسند نہ فرمایا۔نوٹ : یہ واقعہ اس تربیت کی شان کو لئے ہوئے ہے جو حضرت ام المؤمنین اہلی زندگی میں اتحاد و یگانگت کے رنگ میں فرماتی رہی ہیں۔وہ دو بھائیوں میں کمال اتحاد پسند فرماتی ہیں وہ اپنے معاشرہ اور تمدن کے لحاظ سے الگ الگ رہتے ہوں۔مگر وہ علیحدگی کے قلبی اتحاد اور محبت میں دوئی اور جدائی کا شائبہ پیدا نہ کرے جبکہ وہ ایک ہی باپ اور ماں کے بیٹے ہیں اور پھر خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میں ہو کر روحانی طور پر بھی ایک ہی باپ کے بیٹے اور ایک ہی زنجیر کی کڑیاں بنا دیا ہو۔(عرفانی) (٢) ایک اور موقعہ پر میری بیوی نے ایک چاندنی کھیں پیش کیا جو حضور نے اسی وقت اپنے نیچے بچھا لیا اور اس طرح میری بیوی کی دلجوئی کی چھوٹے بچے ساتھ تھے انہیں فوراً مٹھائی منگوا کر دی اور آپ محبت