سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 372
372 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ نے ان کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ اس لڑکی کے چہرہ سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک دن استانی بنے گی۔چنانچہ بالآخر اس کو بھوپال کے کیمبرج سکول میں ( جولڑکیوں کے لئے ہے ) استانی کی جگہ مل گئی۔حضرت ام المؤمنین نے جب فرمایا تھا سیدہ مبارکہ ساتویں جماعت میں تھی۔نوٹ : حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اتَّقُوا افِرَاسَةَ الْمُومِنِ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللہ حضرت اُم المؤمنین کی یہ فراست صحیحہ اسی نور اللہ کا ثبوت ہے جو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد میں ہے۔حضرت ام المؤمنین کی فراست صحیحہ کے متعلق سیدہ فضیلت نے بھی لکھا ہے۔وہ فرماتی ہیں کہ غالباً 1919 ء میں حضرت اماں جان سیالکوٹ آئیں اور مسجد حکیم حسام الدین صاحب مرحوم سے ملحقہ مکان میں جس میں ان دنوں ہمارے بزرگ حضرت سید حامد شاہ رضی اللہ عنہ رہتے تھے تشریف لائیں تو میں آپ کے استقبال کو سیڑھیوں پر کھڑی تھی آپ نے نظر اٹھا کر دیکھا اور معاً حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ کی بیوی کو (جو آپ کے ساتھ تھیں ) مخاطب کر کے فرمایا۔یہ سیّد خصیلت علی شاہ صاحب کی لڑکی ہیں میں نے ان کو آنکھوں سے پہچان لیا۔حالانکہ میرے والد مرحوم کی وفات کے وقت میری عمر تین سال کی تھی اور اس سے پہلے یا بعد مجھے اماں جان نے نہ دیکھا تھا۔جانے کب اور کس وقت میرے والد صاحب کو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اوّلین صحابہ میں سے تھے اور حضرت کے فدائی اور پروانے تھے دیکھا تھا اور جانے کتنی مدت کے بعد آپ نے مجھے ایک نظر سے پہچان لیا۔غرض حضرت اُم المؤمنین کی فراست اور حافظہ بے نظیر ہے ( عرفانی کبیر ) (۳) ایک مرتبہ حضرت خلیق انبیع الاول رضی اللہ عنہ کی بیگم صاحبہ کو ایک شخص نے ام المومنین لکھا تو آپ نے فرمایا کہ ہماری بیوی ام المؤمنین نہیں ہے۔شیخ حبیب الرحمن صاحب کی روایات شیخ حبیب الرحمن صاحب بی۔اے اسٹنٹ ڈسٹرکٹ انسپکٹر تعلیم میرے نہایت ہی مخلص بھائی