سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 351 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 351

351 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ علیہ الصلوۃ والسلام کے نکاح میں آجانے سے اس خاندان پر وہ انعام ہوا کہ اسے دنیا میں بھی غیر فانی زندگی مل گئی۔بیشک وہ ایک بڑے جلیل القدر انسان امیر الامراء صمصام الدولہ نواب خانِ دوراں میر بخشی منصور جنگ کمانڈرانچیف عساکر مغلیہ کے خاندان سے ہیں مگر تاریخ اب ان کو بھی بھول چکی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نام اور سلسلہ کو زمانہ مٹا نہیں سکتا بلکہ خدا نے خود بشارت دے دی۔ثبت است بر جریده عالم دوام ما اس لئے یہ ایک تاریخی اور دائمی حیات ہے مگر اتنا ہی نہیں بلکہ حضرت ام المؤمنین کے ذریعہ فی الحقیقت بے انتہا برکات نازل ہوئیں۔والحمد للہ علی ذالک۔( محمود احمد عرفانی ) حضرت میر محمد اسمعیل صاحب کی تحریک شادی محترم بہن نے بھائی کی تعلیم کے لئے مُودة فی القربی کا جوعملی نمونہ پیش کیا وہ آپ نے ابھی پڑھا ہے اور اس سے اس شفقت اور محبت کا پتہ لگتا ہے کہ جو ایک سعادت مند ، ذی حوصلہ بہن کو اپنے بھائی سے ہونی چاہئے۔اپنے گھروں میں اس روح کو پیدا کر و۔سعادت مند بہنیں اس رنگ میں اپنے آپ کو رنگین کریں۔اب میں ایک اور شان حضرت اُم المؤمنین کے فہم وفراست اور اہلی زندگی کے نشیب و فراز سے واقفیت کی دکھاتا ہوں۔حضرت ڈاکٹر صاحب کی شادی کی تحریک ہوئی اور یہ تحریک اپنے ہی خاندان میں ڈاکٹر صاحب کی پھوپی صاحبہ کی لڑکی سے تھی۔مذہبی اختلافات نے بھی ایک خلیج حائل کر رکھی تھی۔حضرت میر صاحب قبلہ اور نانی اماں اور حضرت اُم المؤمنین اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی چاہتے تھے کہ یہ رشتہ قبول کر لیا جائے مگر شادی کے معاملہ میں خود لڑکی اور لڑکے کی رضا مندی نہایت اہم ہے اور حضرت ڈاکٹر صاحب بعض وجوہ سے آمادہ نہ تھے اور اپنی رضامندی کا اظہار نہ کرتے تھے۔اس لئے خاندان کے بزرگ با وجود اپنی خواہش کے ان پر جبر بھی نہ کرنا چاہتے تھے۔البتہ تحریک کر سکتے تھے اور مشورہ دے سکتے تھے۔بہن بھائی کے تعلقات میں ایک خصوصیت ہوتی ہے اور خصوصاً وہ بہن جس نے عمل سے بھائی کے کردار کو بنایا ہو اور اس کی تعمیر سیرت میں ایک قربانی کی ہو۔ایسے موقعہ پر وہ بہن کب خاموش رہ سکتی تھی۔اس نے