سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 352
352 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ نہایت غمگساری کے ساتھ اس رشتہ کے متعلق اپنا اظہار خیال کیا اور بھائی کے خیال کو مسیح رنگ میں تبدیل کرنے کیلئے ایک طریق تفہیم اختیار کیا اور نہایت اخلاص اور محبت سے مشورہ دیا۔چنانچہ حضرت ڈاکٹر صاحب کو انہوں نے ایک خط لکھا اس خط کا عکس میں دوسری جگہ دوں گا ( انشاء اللہ العزیز ) یہاں اصل خط کا مضمون درج کرتا ہوں۔حضرت ام المؤمنین کا خط بسم الله الرحمن الرحيم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ نحمده ونصلی تمہارا خط میں نے پڑھا میرے نزدیک اس موقعہ کو ہرگز نہیں چھوڑ نا چاہئے۔تم ابھی بچہ ہو تمہیں معلوم نہیں کہ رشتہ ناطہ کے وقت کیسی کیسی مشکلیں پیش آتی ہیں اور ایسا خاندان جو کسی طور سے کوئی عیب نہ رکھتا ہو۔کس طرح مشکل سے ملتا ہے اور نئی جگہ میں کیسی کیسی خرابیاں نکل آیا کرتی ہیں۔اب خدا نے بشیر الدین کو دوسری طرف سے روک کر تمہاری طرف توجہ دی ہے یہ خدا کا کام ہے اس کی قدر کرنی چاہئے اگر اس وقت انکار کرو گے تو یہ خدا کے کام کی بے قدری اور ناشکری ہے۔بلکہ مجھے ڈر ہے کہ اس ناشکری کی شامت سے مدت تک کوئی دوسرا موقعہ پیش نہ آوے۔اس لئے میں تمہیں صلاح دیتی ہوں کہ اپنے دل کو سمجھاؤ اور جو حضرت صاحب نے لکھا ہے ضرور اس پر عمل کر لو۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ بہت سی ایسی باتیں ہیں کہ تم ان کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہو اور وہ باتیں تمہارے لئے بہتر ہوتی ہیں۔اسی غرض سے میں نے یہ خط لکھا ہے اور مجھے بہت خوشی ہو گی جب میں تمہارا یہ خط پڑھوں گی کہ لو میں نے تمہاری بات مان لی اور اپنی ضد چھوڑ دی اور اس کا جواب مجھے جلدی لکھو کہ سکند رہ جانے کیلئے ہم تیار بیٹھے ہیں والد عا۔از قادیان والد محمود احمد میں ہر سلیم الفطرت انسان کے ضمیر سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس مکتوب کو پڑھے اور پھر پڑھے یہ خط حضرت اُم المؤمنین کی سیرت کے کئی پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہے۔سب سے اوّل یہ کہ اس بلند پایہ خاتون کے قلب مطہر پر اللہ تعالیٰ کی عظمت غالب ہے۔آپ نے بھائی کو اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ