سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 350
350 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ان کی لمبی اور مسلسل قربانی اور مجھ پر ان کی خاص شفقت اور محبت۔کے اخلاق فاضلہ کو آئندہ نسلوں کے لئے بطور سبق کے پیش کروں۔یہ تو صرف ایک خاص واقعہ ہے جس کا علم چونکہ عام لوگوں کو نہیں ہے اس لئے لکھ دیا ورنہ جو جو ان کے احسانات مجھ پر ہیں ان کا بیان نہیں ہوسکتا۔اور سب سے بڑھ کر یہ احسان کہ ان کے تعلق کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے ایک ایسے عظیم الشان انسان سے ہمارا پیوند کرا دیا کہ اس کے شکر سے ہماری زبانیں بالکل قاصر ہیں۔( نوٹ ) اس تحریر کو جو شخص بھی ٹھنڈے دل سے پڑھے گا وہ حضرت اُم المؤمنین کی سیرت کے متعدد پہلوؤں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔اوّل : حضرت ام المؤمنین نے یہ پسند نہ فرمایا کہ اپنے اس ایثار مُودة فِي الْقُرِبی کا اعلان کریں حتی کہ خود حضرت میر محمد اسمعیل صاحب کو بھی زبانی نہیں فرمایا بلکہ لکھ کر دیا تھا کہ ان کی طبیعت پر کوئی بوجھ نہ معلوم ہو۔دوم : آپ اس امر کی منتظر نہیں رہیں کہ حضرت نانا جان رضی اللہ عنہ یا نانی اماں رضی اللہ عنہا یا خود میر محمد اسمعیل صاحب اپنی تعلیم کی آئندہ مشکلات یا ضروریات کا ذکر کریں بلکہ حضرت ام المؤمنین نے خود ایک ضرورت کا احساس فرما کر بغیر کسی قسم کی خارجی تحریک کے اپنا فرض ادا کیا۔سوم : اس نیکی کے اخفاء کی اس قدر کوشش فرمائی کہ اگر حضرت میر اسمعیل صاحب اس واقعہ کا اظہار نہ فرماتے تو دنیا اس سے بے خبر رہتی۔یہ حضرت اُم المؤمنین کے مخلص فی الدین اور آپ کے ایثار وقربانی کا نظارہ ہے حضرت اُم المؤمنین ان ایام میں جوان تھیں اور بالطبع مستورات کو اپنے لباس اور ذاتی ضروریات کا خصوصاً خیال رہتا ہے مگر حضرت اُم المؤمنین نے اپنی ذاتی ضروریات کو بھائی کی تعلیم کے لئے قربان کر دیا۔چہارم : حضرت ام المؤمنین کی اقتصادی اور انتظامی قابلیت بھی اس سے ظاہر ہے کہ کس طرح کفایت شعاری سے پس انداز کرنے کے لئے ایک تجویز فرمائی۔اگر ہماری خواتین اس طرح اپنی زندگی کو بسر کریں تو ذاتی یادینی ضروریات کے لئے وہ بہت آسانی سے روپیہ جمع کرسکتی ہیں۔سب سے آخر میں حضرت میر صاحب نے جو بات فرمائی ہے وہ نہایت پر معنی ہے اور اس سے خود حضرت میر صاحب کی سیرت پر بھی روشنی پڑتی ہے اور وہ یہ کہ حضرت ام المؤمنین کے حضرت مسیح موعود