سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 312 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 312

312 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ جن لوگوں کا یہ جنون اور بھی بڑھ جاتا ہے وہ تو سکرات موت میں بھی ایسی باتیں کرنے لگتے ہیں۔چنانچہ ایک مشہور اخبار نویس کا لکھا ہے کہ مرنے سے پہلے وہ حالت بے ہوشی میں بار بار کہتا تھا: اس ٹکڑے کو محفوظ کر لو۔یہ بہت کارآمد ہے۔اور اپنے گریبان کو انگلیوں سے کاٹ کر کہتا کہ یہ لو کٹنگ سنبھال کر رکھو یہ کام کا جنون ہے۔مجھے سیرت حضرت اُم المؤمنین لکھنے کے لئے ایسا ہی جنون تھا۔چلتے پھرتے ، اٹھتے بیٹھتے میرے دماغ پر یہ دھن سوار تھی۔چنانچہ میں نے اپنی صحت اور طاقت کا اندازہ کئے بغیر اپنے آپ کو میدانِ عمل میں پھینک دیا۔سیرت اُم المؤمنین کا مواد سیرت اُم المؤمنین کا مواد میری نگاہ میں بہت کم تھا۔اس لئے مجھے تلاش و جستجو میں بہت کچھ سرگردان ہونا پڑا۔میں نے بلا مبالغہ ہزار ہا صفحے اس غرض و غایت کے ماتحت پڑھ ڈالے۔کئی نوٹ اور یادداشتیں لکھیں۔چند دن کی محنت نے مجھے بتلا دیا کہ جسم اس قدر محنت کو برداشت نہیں کر رہا۔ریت کی دیوار ھسکتی ہوئی نظر آنے لگی۔مگر اب کتاب کا اعلان ہو چکا تھا۔جماعت کی طرف سے اس کا ویلکم ہو رہا تھا۔میں نے جو مانگا وہ مجھے مل رہا تھا۔اب میں نے دونوں حالتوں کا پورا پورا موازنہ کیا۔ایک طرف اپنی صحت اور دوسری طرف اس ذمہ واری کا جسے میں نے اپنے اوپر لے لیا تھا اور میں نے پورے غور وفکر کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ میں اس کام کو جاری رکھوں گا اور ہر قیمت پر جاری رکھوں گا۔خواہ مجھے اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے پہنچاتے اپنی زندگی کا کھیل ختم کر دینا پڑے۔مجھے اس ذمہ واری کو نبھانا ہوگا اور ہر قیمت پر نبھانا ہو گا۔چنانچہ میں ایک تندرست آدمی سے بھی زیادہ مشقت کا باراٹھا تا رہا اور دن اور رات کام کرتا چلا گیا۔اس محنت نے مجھے بخار میں مبتلا کر دیا اور کھانسی کی شدت اتنی بڑھ گئی کہ بعض را تیں تو میں نے کھانستے کھانستے ختم کر دیں۔مگر میں نے کئی کئی دن اپنے بخار کا کسی سے ذکر نہ کیا کہ مبادا یہ میرے عزیز مجھے کام کرنے سے روک دیں۔چنانچہ جب ان کو پتہ لگا تو انہوں نے میرے کام کو روکنے کی ہر ممکن صورت اختیار کی مگر میں نے کسی بات پر بھی توجہ نہ کی۔انہوں نے ڈاکٹر کو بلا نا چاہا میں نے اس کو بھی