سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 313
313 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ پسند نہ کیا۔کیونکہ ڈاکٹر کے آنے کے یہی معنی تھے کہ کام بند۔جسے میں کسی قیمت پر بند کرنے کے لئے تیار نہ تھا۔بالآخر مرض نے مجھ پر اس قدر غلبہ کر لیا کہ ایک دن جبکہ میں لکھ رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ میرا دماغ کچھ سوچ رہا ہے اور میرا قلم کچھ لکھ رہا ہے۔ہر دفعہ مجھے اپنے لکھے ہوئے فقرے کاٹنے پڑتے تھے۔اس طرح چند صفحات خراب ہو گئے۔تب مجھے مایوسی ہوئی۔یہ میری زندگی کا بالکل پہلا واقعہ تھا۔میں لکھ کر کاٹنے کا عادی نہیں دماغ ہر فقرے کو مکمل اور درست طور پر وضع کرتا ہے اور پھر اس پر نظر ثانی کی ضرورت نہیں رہتی۔لیکن آج کی کیفیت نے مجھے گھبراہٹ میں ڈال دیا۔میں نے سمجھا کہ اب میرے اعصاب میرا ساتھ چھوڑ رہے ہیں اور دماغ اور دوسرے پٹھوں کا تعاون نہیں رہا۔تب میں نے ان لکھے ہوئے صفحات کو پھاڑ کر پھینک دیا اور میں ایک تھکے ہوئے اور بہت تھکے ہوئے بیمار کی طرح چار پائی پر لیٹ گیا۔کتاب حیدر آباد میں چھپ رہی تھی مضمون میرے دماغ میں تھا وقت بہت تنگ تھا ان حالات نے میرے اندر ایک مایوسی کی لہر پیدا کی اور میں مایوس ہو کر بستر علالت پر لیٹ گیا۔چند یوم کام چھوڑنا پڑا۔ڈاکٹر کا مشورہ تو مجھے معلوم ہی تھا۔ذرا آرام ملنے پر باوجو د سخت کمزوری اور نقاہت کے اس کتاب کے کام کو مکمل کرنے کی توفیق پالی اور وہ کتاب جسے میں چار سو صفحے پرختم کرنا چاہتا تھا ۴۶۴ صفحات تک بڑھ گئی۔یہ جو کچھ ہوا میری طاقت اور ہمت سے بالکل بڑھ کر ہوا۔میرے وہم وگمان سے بالکل باہر ہوا۔میرے جیسا بیمار ایسے کام کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔مگر خدا تعالیٰ نے یہ سب کام اپنے فضل سے ایسے رنگ میں کرا دیئے کہ میں خود محو حیرت ہوں۔میرا پہلا مطالبہ پانچ ہزار کتاب شائع کرنے کا تھا۔کاغذ کی مشکلات کی وجہ سے میں خود اس مطالبہ پر قائم نہ رہ سکا اور میں خود اس سے نیچے اتر کر تین ہزار پر آ گیا۔میرے دل میں یہ شوق تھا کہ کتاب زیادہ سے زیادہ تعداد میں لوگوں کے ہاتھوں میں جائے اور یہ کتاب چھپنے سے قبل پک جائے تا ہماری محبت کا ایک مظاہرہ ہو سکے۔میں نے اپنی طرف سے یہ ہی قربانی نہیں کی کہ کتاب کے لکھنے کا ایسے وقت عزم کیا جبکہ میری صحت اس کی اجازت نہ دیتی تھی بلکہ یہ بھی قربانی تھی کہ میں نے اس کی قیمت اتنی کم رکھی جو آج اس