سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 311 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 311

311 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اَحْسَنُ الْجَزَاءَ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ - پس احمدیہ جماعت کے ہر فرد کو اسی جذبہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں کرتے ہوئے ثواب حاصل کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔وَاخِرُ دَعْوَنَا آنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ خاکسار برکت علی خان فنانشل سیکرٹری تحریک جدید جماعت احمدیہ قادیان دار الامان ۱۵ نومبر ۱۹۴۳ء سیرت حضرت اُم المؤمنین کی پہلی جلد کی تکمیل اور داستان تصنیف گذشتہ سال کے سالانہ جلسہ کے بعد تین کتابوں کی تصنیف و اشاعت کا میں نے اعلان کیا تھا۔جن میں سے پہلی تصنیف سیرت حضرت ام المومنین تھی۔کتاب کے اعلان کے بعد میں سخت بیمار ہو گیا۔میری زندگی ایسے لمحات میں سے گذرنے لگی جو نہ صرف مرض کی وجہ سے شدید تھے بلکہ اپنی شدت تکلیف کی وجہ سے بھی بڑے خطرناک تھے۔صحت کو ایسا دھکا لگا کہ مبصرین صحت کے نزدیک ایک لمبے عرصہ تک مجھے ہر قسم کے کاروبار سے الگ ہو کر محض سیر و سیاحت اور تبدیلی آب و ہوا میں لگ جانا چاہئے تھا۔چنانچہ میں قادیان سے سکندر آباد دکن چلا گیا۔کچھ دن والد صاحب قبلہ کے ظل عاطفت میں اور کچھ دن وارنگل میں برادر عزیز شیخ داؤد احمد عرفانی کے پاس اور کچھ دن عزیز مکرم شیخ یوسف علی صاحب عرفانی کے پاس بمبئی میں گزارے۔اس تبدیلی مکانی سے میری صحت پر اچھا اثر پڑا اور میری صحت پہلے کی نسبت بہت بہتر ہو گئی۔اس حالت میں پھر قلب میں وہ وارونگی پیدا ہوئی اور دماغی جنون نے قلم ہاتھ میں پکڑنے کے لئے پکارنا شروع کیا۔لکھنا پڑھنا بذات خود ایک مرض ہے جن کو یہ مینیا ہو جاتا ہے وہ کسی حالت میں بھی کتاب اور کاغذ سے الگ نہیں ہو سکتے۔میری اپنی یہ حالت ہے کہ میں شدید سے شدید بیماری میں بھی اخبار کو ہاتھ میں لینے اس کی سطروں پر نظر ڈالنے سے تسکین پایا کرتا ہوں۔کتابوں پر صرف ہاتھ پھیر لینے سے بھی ایک قسم کی تسلی ہو جاتی ہے۔