سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 307
307 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ہوں کہ ان کی شکست میں کم از کم ۲۵ فیصدی حصہ امانت فنڈ تحریک جدید کا ہے۔باوجود اس قد رفوائد ہونے کے دوستوں کا تمام روپیہ محفوظ ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر دس بارہ سال تک ہماری جماعت کے دوست اپنے نفسوں پر زور ڈال کر امانت فنڈ تحریک جدید میں روپیہ جمع کراتے رہیں اور اس دوران میں جس کو ضرورت ہو وہ روپیہ لیتا رہے تو خدا کے فضل سے قادیان اور اس کے گردونواح میں ہماری جماعت کی مخالفت ۹۵ فیصدی کم ہو جائے۔تحریک جدید کا امانت فنڈ الہامی تحریک ہے! غرض یہ تحریک ایسی اہم ہے کہ میں تو جب بھی تحریک جدید کے مطالبات کے متعلق غور کرتا ہوں۔ان سب میں سے امانت فنڈ تحریک جدید کو دیکھ کر خود حیران ہو جایا کرتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ امانت فنڈ تحریک جدید کی تحریک الہامی ہے کیونکہ بغیر کسی قسم کے بوجھ اور غیر معمولی چندہ کے اس فنڈ سے ایسے ایسے کام ہوئے ہیں جو جاننے والے جانتے ہیں وہ ان کی عقل کو حیرت میں ڈال دینے والے ہیں۔اب جو نیا فتنہ اٹھا تھا اس نے بھی اگر زور نہیں پکڑا تو در حقیقت اس میں بہت حصہ تحریک جدید کے امانت فنڈ کا تھا۔پس جو دوست اس میں شامل نہیں ہوئے وہ اس وقت شامل ہو جائیں۔پس اب اس امانت فنڈ کے بارے میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے کہ جب چاہے واپس لے لے۔لہذا جو دوست اب تک ایسے اہم امانت فنڈ میں شامل نہیں ہوئے وہ اب شامل ہو جا ئیں۔سال اول میں چندہ تحریک جدید کی قربانیوں کا مطالبہ امانت فنڈ تحریک جدید کے مطالبہ کے بعد تیسرا مطالبہ دشمن کے گندے لٹریچر کا جواب۔چوتھا تبلیغ بیرون ہند۔پانچواں ' تبلیغ خاص اور چھٹا مطالبہ سروے سکیم بطور چندہ کے تھا۔پہلے سال میں ان چاروں مذات کے لئے حضور ایدہ اللہ نے مخلصین جماعت سے ساڑھے ستائیس ہزار کا مطالبہ فرمایا۔مگر خدا کے فضل اور اس کی ہی دی ہوئی توفیق سے احمد یہ جماعت نے اپنے امام کے حضور وہ شاندار اور قابل تعریف نمونہ پیش کیا جو ایک مخلص مومن کا فرض ہے اور ان مومنوں کے اس نمونہ کی مثال سوائے رسول کریم ﷺ کے صحابہ کے اور کہیں نہیں ملتی۔چنانچہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے حضور ایک لاکھ دس ہزار روپیہ نقد قدموں میں لا ڈھیر کیا۔جو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے اصل مطالبہ سے چار گنا ہے۔یہی وجہ ہے کہ