سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 306
306 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ قربانی کے معنی دس فیصدی قربانی کے ہوں گے۔پس ضروری ہے کہ قربانی کرنے سے پیشتر اس کے ماحول کو پیدا کیا جائے۔اصل بات یہ ہے کہ قربانی کرنا مشکل نہیں ایمان لانا مشکل ہے۔جس کے دل میں ایمان پیدا ہو جائے اس کے لئے کوئی بھی قربانی مشکل نہیں ہوتی اور میں امید کرتا ہوں کہ جن مردوں کے دلوں میں ایمان ہے وہ عورتوں کی اور جن بچوں کے دلوں میں ایمان ہے وہ اپنے ماں باپ کی مدد کریں گے اور آئندہ قربانیوں کے بارے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے۔“ پس جماعت سے قربانی کا پہلا مطالبہ یہ ہے کہ کھانے میں سادگی پیدا کی جائے یعنی ایک سے زیادہ سالن استعمال نہ کیا جائے۔تحریک جدید امانت فنڈ اور احرار کی خطر ناک شکست دوسرا مطالبہ یہ کہ جماعت کے مخلص افراد کی ایک ایسی جماعت نکلے جو اپنی آمد کا ۱/۵ سے ۱/۳ تک سلسلہ کے مفاد کے لئے تحریک جدید میں جمع کرائے۔اس کی صورت یہ ہو کہ جس قدر وہ مختلف چندوں میں دیتے ہیں یا دوسرے ثواب کے کاموں پر خرچ کرتے ہیں وہ سب رقم اس حصہ میں سے لوٹا لیں۔باقی رقم اس تحریک کی امانت میں جمع کرا دیں۔بہر حال یہ قربانی مالی لحاظ سے بھی مفید ہو گی۔انشاء اللہ اس میں فائدہ یہ ہے کہ احتیاط اور کفایت کے ساتھ دوست خرچ کریں گے اور بچت کر سکیں گے۔تین سال کے بعد تمام کی تمام رقم بصورت نقدی یا بصورت جائیداد انہیں واپس مل جائے گی۔یہ چیز چندہ تحریک جدید سے کم اہمیت نہیں رکھتی اور پھر اس میں یہ سہولت ہے کہ اس طرح تم پس انداز کر سکو گے۔اگر کوئی شخص اپنے عمل سے ثابت کر دیتا ہے کہ اس کے پاس جائیداد ہے۔اتنی ہی قربانی کی روح اس کے اندر موجود ہے تو اس کا جائیداد پیدا کرنا بھی دین کی خدمت ہے۔اس کا دنیا کمانے میں وقت لگانا بھی نماز سے کم نہیں۔امانت فنڈ تحریک جدید کے ذریعہ احرار کو خطر ناک شکست ہوئی ہے۔اتنی بڑی شکست کہ میں سمجھتا