سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 281
281 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ہماری طرف سے عمدہ قسم کا کھانا کھلانے کی اجازت مل سکتی ہے؟ خاکسار نے سول سرجن صاحب کے ذریعہ جو میرے افسر تھے اور جیل کے بھی بڑے ڈاکٹر تھے کوشش کی اور کھانا کھلانے کی اجازت حاصل کر کے عرض کی کہ مل سکتی ہے۔تب حضور نے پچاس روپے کی رقم مجھے دی۔اس طرح پر قیدیوں کو عمدہ قسم کا کھانا کھلوایا گیا۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ممدوحہ کا قلب مخلوق خدا کی محبت اور ہمدردی سے پر ہے۔یہی وجہ ہے کہ جماعت کا ہر چھوٹا بڑا حضور کی آمد سے خوش ہوا اور حضرت ممدوحہ نے ہمدردی خلق کے جذبہ کو پورا کرنے کے موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک معقول رقم قیدیوں کو کھانا کھلانے کے لئے عطا کی۔اور يُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِيْناً وَّيَتِيمًا وَّاسِيرًا پر عمل کرتے ہوئے محبت الہی کا ثبوت بھی بہم پہنچایا۔“ ۲۔حضور کے قرب میں رہتے ہوئے ۲۵ سال کا عرصہ خاکسار کو گزر گیا ہے۔حضور کو ہمیشہ خدا ترس ، خدا پرست اور خدا کے حضور دعائیں کرنے والا پایا۔“ حضور کی یہ صفت خاص دیکھنے میں آئی کہ اگر کبھی کوئی کھانے کی چیز خواہ کتنی ہی چھوٹی سے چھوٹی ہو حضور کی خدمت میں پیش کی گئی تو نہایت خندہ پیشانی اور تشکر کے رنگ میں اسے قبول کیا اور بسا اوقات اسی برتن میں اپنی طرف سے کوئی دوسری چیز بطور تحفہ ڈال دی۔برتن کو بحفاظت واپس بھجوانے کی خاص صفت حضور کے اندر پائی گئی۔“ ۴۔” میری معرفت کئی بار حضرت ممدوحہ نے دوائیں یا اور چیز میں قیمتاً منگوا ئیں میں نے ہمیشہ دیکھا کہ ان کی قیمت بلا توقف حضور نے ادا فرما دی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا قیمت ادا کرنے کی تاک میں بیٹھی ہیں۔“ بطور خادم قرب میں رہتے کئی دفعہ ایسے مواقع آئے کہ بعض چھوٹی چھوٹی غلطیوں سے مجھے خیال پیدا ہوا کہ حضرت ممدوحہ مجھ سے ناراض نہ ہو گئی ہوں اور دل فکرمند ہوا۔لیکن میرا یہ خیال ہمیشہ ہی غلط نکلا اور حضور کو ہمیشہ ہی مشفق اور محسن پایا۔اللہ تعالیٰ حضور کو ہمیشہ خوش و خرم رکھے اور دین اور دنیا کے بہترین حسنات نصیب کرے اور حضور کی اولاد اور در اولاد اور ڈر اولاد کو بھی دین اور دنیا کے حسنات نصیب فرمائے اور ہم عاجزوں کو بھی