سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 282 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 282

282 سیرت حضرت سید ہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حضور کا ایسا قرب میسر رکھے کہ کوئی جدائی اس میں نہ ہو۔جس طرح وہ پیارے محمود کی پیاری والدہ ہیں ہماری بھی پیاری والدہ بنی رہیں۔(۹) محتر مہ سلیمہ بیگم صاحبہ بنت جناب سیٹھ محمد غوث صاحب حیدر آباد (دکن) سے اماں جان کی شفقت کے متعلق روایت بیان کرتی ہیں کہ : یہ عاجزہ راقمہ اپنے بچپن سے حضرت اُم المؤمنین مدظلہ العالی کو حضرت اماں جان کے نام سے موسوم سنا کرتی تھی۔۱۹۱۸ء کے جلسہ سالانہ پر حضرت اماں جان سے مجھے شرف نیاز حاصل ہوا۔میں نے فی الحقیقت حضرت اماں جان کو کیا بلحاظ شفقت و محبت اور کیا بلحاظ ہمدردی ، خلوص دل و عنایات و احسان سے اسم بامسمی پایا۔آپ کو ہر نیک سے نیک اور پیاری سے پیاری صفت سے متصف پایا۔”میری والدہ مرحومہ کو فوت ہوئے بارہ سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔مگر اس دوران میں ہر دو تین سال کے بعد اماں جان کی شفقت مادرانہ نے میرے غمگین دل کو ماں جیسی خوشیوں اور راحتوں سے بھر دیا۔جب کبھی بھی اماں جان سے شرف ملاقات نصیب ہوا۔آپ نے ہر بڑے چھوٹے کا حال دریافت فرمایا اور معمولی سے معمولی باتیں اس طرح دریافت فرمائیں۔گویا ایک شفیق ماں مدتوں کی بچھڑی ہوئی بیٹی سے حال پوچھتی ہے۔یہ آپ کی شفقت کا ایک ادنیٰ کرشمہ ہے۔(۱) ۱۹۳۶ء یا ۱۹۳۷ ء میں جلسہ سالانہ پر ایک دفعہ حاضر ہوئی۔اس وقت اماں جان کی خدمت میں خاندان کی بیگمات کے سوا دوسری عورتیں بھی موجود تھیں۔میرا پہلالڑ کا پیدائشی طور پر بصارت اور سماعت اور چلنے پھرنے سے معذور تھا۔اس کے بعد متواتر پانچ لڑکیاں پیدا ہوئیں۔جب حضرت اماں جان کو اس بات کا علم ہوا تو آپ کے دل میں میرے لئے شفقت پیدا ہوئی۔آپ نے اس بچے کا حال دریافت فرمایا اور پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ تم کو اب کی دفعہ خادمِ دین لڑکا عطا فرمائے۔پھر جو خواتین موجود تھیں ان سے فرمایا: اس بیچاری کے لئے دعا کریں کہ اللہ اس کولر کا دئے۔